ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

روس نے بھارت کو فضائی دفاعی نظام’ایس-400‘ کی ترسیل مؤخر کردی

datetime 28  جون‬‮  2025 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)  پاکستان کے ہاتھوں رافیل طیارے کی تباہی اور بھارتی فضائیہ کی کارکردگی پر اٹھنے والے سخت سوالات نے نریندر مودی حکومت کے دفاعی دعوؤں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ ان حالات میں جب بھارت اپنی ناکامی کو تسلیم کرنے سے انکار کر رہا ہے، روس نے ایک غیر معمولی فیصلہ لیتے ہوئے بھارت کو جدید فضائی دفاعی نظام “ایس-400” کی فراہمی تین سال کے لیے ملتوی کر دی ہے۔

بھارتی اخبار ٹائمز آف انڈیا کے مطابق یہ اہم فیصلہ روسی وزیر دفاع آندرے بیلوسوف اور بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کی حالیہ ملاقات کے بعد سامنے آیا۔ واضح رہے کہ دونوں ممالک کے درمیان 2018 میں 5.4 ارب ڈالر کے معاہدے کے تحت یہ طے پایا تھا کہ روس بھارت کو ایس-400 میزائل سسٹم فراہم کرے گا، جس کی مکمل ترسیل 2024 تک کی جانی تھی۔ اب نئی تاریخ کے مطابق یہ عمل 2027 میں مکمل ہوگا۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس تاخیر کی بنیادی وجہ روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ ہے، جس کی وجہ سے روس کی دفاعی برآمدات بری طرح متاثر ہوئی ہیں۔ اس تعطل نے دونوں ممالک کے درمیان دفاعی روابط میں بھی کمی پیدا کر دی ہے۔

حالیہ برسوں میں بھارت کی دفاعی پالیسی میں واضح تبدیلی دیکھی گئی ہے۔ اب وہ روایتی شراکت دار روس کے بجائے مغربی طاقتوں جیسے فرانس، جرمنی، امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ تعاون بڑھا رہا ہے۔ 2023 میں بھارت نے روسی آبدوزوں کی جگہ جرمن کمپنی سے چھ آبدوزیں خریدنے کا فیصلہ کیا تھا، جبکہ فرانس سے رافیل جنگی طیارے حاصل کرنے کا معاہدہ بھی اسی نئی پالیسی کا مظہر ہے۔

دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت کی خارجہ اور دفاعی حکمت عملی میں تیزی سے مغرب کی طرف جھکاؤ بڑھ رہا ہے، جس کا ایک مقصد ٹیکنالوجی تک جدید ترین رسائی حاصل کرنا ہے۔ روس سے ایس-400 کی ترسیل میں تاخیر اس پالیسی تبدیلی کی اہم علامت کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…