اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

7 ماہ میں 25 آدمیوں سے شادی کرکے انہیں لوٹنے والی خاتون گرفتار

datetime 21  مئی‬‮  2025 |

اسلام آباد( نیوز ڈیسک) بھارتی ریاست بھوپال میں پولیس نے ایک 23 سالہ خاتون کو گرفتار کیا ہے جو شادی کے بہانے مردوں کو لوٹ کر فرار ہو جاتی تھی۔ انورادھا پاسوان نامی اس خاتون نے صرف سات ماہ کے دوران ملک کی مختلف ریاستوں میں 25 افراد سے شادی کی اور انہیں قیمتی سامان سے محروم کر کے غائب ہو گئی۔پولیس حکام کے مطابق انورادھا پر متعدد افراد کو دھوکہ دے کر شادی کرنے اور بعد ازاں ان کے گھروں سے زیورات، نقد رقم اور قیمتی اشیاء چرا کر فرار ہونے کے الزامات ہیں۔

اسے میڈیا میں “لوٹ کر بھاگ جانے والی دلہن” کے نام سے پکارا جا رہا ہے۔یہ معاملہ اُس وقت کھلا جب ریاست راجستھان کے ضلع سوئی مادھوپور کے ایک شہری، وشنو شرما، نے پولیس میں شکایت درج کروائی۔ وشنو شرما کے مطابق ایک ایجنٹ نے دو لاکھ روپے کے عوض 20 اپریل کو اس کی انورادھا سے کورٹ میرج کرائی، لیکن شادی کے صرف بارہ دن بعد یعنی 2 مئی کو وہ خاتون گھر کا سارا قیمتی سامان لے کر رفوچکر ہو گئی۔تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ انورادھا نے قانونی دستاویزات کے ساتھ شادی کی رسم ادا کی، چند روز شوہر کے ساتھ رہی اور موقع ملتے ہی گھر کا صفایا کر کے غائب ہو گئی۔

وشنو شرما کو دھوکہ دینے کے بعد بھی وہ رکی نہیں بلکہ بھوپال میں ایک اور مرد کو بھی اپنے جال میں پھنسایا اور اس سے بھی شادی رچائی۔مزید چھان بین کے دوران پتہ چلا کہ انورادھا کبھی اتر پردیش کے مہاراج گنج ضلع میں ایک اسپتال میں ملازمت کرتی تھی۔ گھریلو جھگڑے کے بعد وہ بھوپال منتقل ہوئی اور وہاں ایک ایسے گروہ سے وابستہ ہو گئی جو ایجنٹس کے ذریعے جعلی شادیاں کرواتا تھا۔پولیس کے مطابق یہ ایجنٹ واٹس ایپ پر خواتین کی تصاویر شیئر کرتے اور دلہن فراہم کرنے کے عوض متاثرین سے دو سے پانچ لاکھ روپے وصول کرتے تھے۔ اس گروہ کا مقصد محض فراڈ کے ذریعے پیسے بٹورنا تھا۔پولیس نے انورادھا کے خلاف مقدمہ درج کر کے مزید تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے اور اس کے دیگر ساتھیوں کی تلاش بھی جاری ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…