اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

بھارت کا یوٹرن، پاک بھارت جنگ بندی میں امریکی صدر ٹرمپ کی ثالثی سے انکار کردیا

datetime 20  مئی‬‮  2025 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)بھارت کا یوٹرن،پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بندی میں امریکی صدر ٹرمپ کی ثالثی سے انکار کردیا، بھارتی سیکرٹری خارجہ وکرم مسری نے جنگ بندی میں امریکی کوششوں کاسرے سے ہی انکار کردیا، بھارتی پارلیمان میں ایک اہم اجلاس کے دوران پاک بھارت جنگ بندی کے معاملے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے کردار کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔
بھارت کے سیکرٹری خارجہ وکرم مسری نے پارلیمانی کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ پاک بھارت سیز فائر قطعی طور پر دوطرفہ تھی ۔ امریکی صدر ٹرمپ کا جنگ بندی میں کوئی کردار نہیں تھا۔بھارتی سیکرٹری خارجہ نے کہا کہ ٹرمپ نے ہم سے بیچ میں آنے کی اجازت نہیں لی، ٹرمپ خود ہی اسٹیج پر آنا چاہتے تھے اور وہ آگئے۔

انہوں نے کہا کہ امریکی صدر نے سات بار سیز فائر کا دعویٰ کیا، لیکن انہوں نے بھارت سے کوئی اجازت نہیں لی۔

ڈونلڈ ٹرمپ خود کو مرکزِ توجہ بنانا چاہتے تھے، جب کہ مودی حکومت نے ایسا کوئی کردار تسلیم نہیں کیا۔ پاکستان اوربھارت کے درمیان تنازع روایتی جنگ کے دائرے میں رہا اور پاکستان سے کسی بھی ایٹمی یا حملے کے اشارے نہیں ملے۔ اسلام آباد سے کسی ایٹمی دھمکی یا اشارے کے کوئی شواہد نہیں ملے۔بھارتی میڈیا کے مطابق پارلیمانی کمیٹی کی طرف سے بار بار پوچھا گیا کہ پاکستان سے جنگ میں کتنے بھارتی طیارے تباہ ہوئے لیکن وکرم مسری قومی سلامتی کا بہانہ بنا کر جواب دینے سے انکار کرتے رہے۔
اس موقع پراپوزیشن لیڈران نے سوال اٹھایا کہ اگر امریکہ کا کوئی کردار نہیں تھا تو مودی سرکار نے اس خاموشی کو کیوں برقرار رکھا اور دنیا کو یہ تاثر کیوں دیا کہ امریکا درمیان میں ثالث بنا؟۔اپوزیشن نے یہ بھی پوچھا کہ ٹرمپ بار بار کشمیر کو بین الاقوامی مسئلہ قرار دیتے رہے، کیا مودی حکومت خاموشی سے اس عمل میں شامل تھی؟۔ بھارت نے پاکستانی ایئربیسز پر حملے کیے، لیکن جب اپوزیشن نے تباہ شدہ بھارتی طیاروں کی تفصیل مانگی تو جواب دینے سے گریز کیا گیا۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ مودی سرکار اصل نقصان چھپا رہی ہے اور صرف میڈیا میں جنگ جیتنے کا بیانیہ بنا رہی ہے۔چینی ہتھیاروں کی موثریت پر بھی سوالات اٹھے، لیکن حکومت نے موضوع بدل دیا۔ دفاعی ماہرین کے مطابق امریکی ثالثی کی تردید دراصل اندرونی سیاسی دباو کا نتیجہ ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…