اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

چین نے پورے ’’اروناچل پردیش‘‘ کو چین کا حصہ قرار دیدیا

datetime 15  مئی‬‮  2025 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) بھارت نے چین کی جانب سے ریاست اروناچل پردیش کے مختلف علاقوں کو نئے نام دینے کے حالیہ اقدام کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ بھارتی وزارتِ خارجہ نے واضح موقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اروناچل پردیش بھارت کا ایک ناگزیر اور ناقابلِ تقسیم حصہ ہے، اور اس پر چین کی کسی بھی قسم کی نامزدگی یا دعویٰ کوئی فرق نہیں ڈال سکتا۔

چین کے وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ بیجنگ نے اروناچل پردیش کے جن علاقوں کے نام بدلے ہیں، وہ چین کی خودمختار حدود میں آتے ہیں، اور وہ اس علاقے کو “زَنگ نان” یعنی جنوبی تبت کا حصہ تصور کرتا ہے۔ تاہم بھارت نے اس دعوے کو ہمیشہ مسترد کیا ہے۔

بھارتی دفتر خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے اپنے بیان میں کہا کہ صرف نام تبدیل کرنے سے یہ حقیقت نہیں بدلے گی کہ اروناچل پردیش بھارت کا لازم و ملزوم حصہ تھا، ہے اور رہے گا۔

یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ چین نے اروناچل پردیش کے جغرافیائی نام تبدیل کیے ہوں۔ اس سے قبل 2023 میں بھی بیجنگ نے تقریباً 30 مقامات کو نئے نام دیے تھے جنہیں نئی دہلی نے غیر سنجیدہ اور بے بنیاد قرار دیا تھا۔

یہ صورت حال ایسے وقت میں پیش آئی ہے جب چین اور بھارت نے حال ہی میں مغربی ہمالیہ کے علاقے میں کئی سال سے جاری سرحدی کشیدگی کو کم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ دونوں ممالک نے افواج کے جزوی انخلاء پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ اسی دوران بھارت اور پاکستان کے درمیان حالیہ سنگین فوجی جھڑپوں کے بعد سیزفائر کا اعلان بھی ہوا ہے۔

چین اور بھارت کے درمیان 3,800 کلومیٹر طویل سرحدی تنازعہ ایک پرانا مسئلہ ہے، جو 1962 کی جنگ سے لے کر 2020 میں وادی گلوان کی خونریز جھڑپوں تک مختلف اوقات میں کشیدگی کا سبب بنتا رہا ہے۔ خطے کی موجودہ صورتحال میں کشیدگی دوبارہ بڑھنے کے امکانات کو مکمل طور پر رد نہیں کیا جا سکتا، اور بین الاقوامی سطح پر اس تنازعے پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…