اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

پاک بھارت کشیدگی میں پاکستان کا ساتھ کیوں دیا؟ بھارتی تاجر ترکیہ کے سیبوں کے بائیکاٹ پر اتر آئے

datetime 13  مئی‬‮  2025 |

پاکستان اور بھارت کے مابین جاری کشیدگی میں ترکیہ کی جانب سے پاکستان کی حمایت پر بھارت میں شدید ردعمل دیکھنے میں آ رہا ہے۔ ترکیہ کے مؤقف سے ناراض ہو کر بھارتی تاجر ترک سیبوں کے بائیکاٹ کی مہم میں مصروف ہو گئے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق، 6 اور 7 مئی کی درمیانی شب بھارت نے مبینہ طور پر پہلگام حملے کو بنیاد بناتے ہوئے آزاد کشمیر اور پنجاب کے متعدد شہری علاقوں کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں 31 پاکستانی شہری شہید اور 51 زخمی ہوئے۔ ان میں بچے بھی شامل تھے۔

پاکستان نے بھارتی حملے کے جواب میں بھرپور جوابی کارروائی کی، جس کے دوران بھارتی فضائیہ کے کئی طیارے، جن میں رافیل، مگ-29، SU-30 اور ایک ڈرون شامل تھا، تباہ کیے گئے۔ بعد ازاں، 10 مئی کو پاکستان کی جانب سے “آپریشن بنیان مرصوص” کے تحت مزید دفاعی کارروائی عمل میں لائی گئی، جسے پاکستان کی طرف سے ایک کامیاب اور منہ توڑ جواب قرار دیا گیا۔

ترکیہ کی طرف سے پاکستان کی حمایت پر بھارت میں خاصا غصہ پایا جا رہا ہے۔ اس غصے کا اظہار اب معاشی بائیکاٹ کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ بھارتی ریاست مہاراشٹرا کے شہر پونے میں تاجروں نے ترک سیبوں کے بائیکاٹ کی مہم شروع کر دی ہے۔ مقامی مارکیٹوں سے ترک سیب غائب ہوتے جا رہے ہیں اور اس کے باعث کاروبار پر بھی اثرات دیکھے جا رہے ہیں۔

بھارتی میڈیا کے مطابق، پونے کے فروٹ مارکیٹ کے تاجروں نے ترکیہ سے سیب درآمد کرنے سے انکار کر دیا ہے اور متبادل کے طور پر ہماچل پردیش، اتراکھنڈ، ایران اور دیگر علاقوں سے پھل حاصل کیے جا رہے ہیں۔ ایک تاجر نے بتایا کہ حالیہ کشیدگی کے بعد ترک سیب کی طلب میں نمایاں کمی آئی ہے اور تاجروں نے واضح طور پر اس کی خریداری روک دی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق، ترک سیب بھارت میں ہر سال تقریباً 1000 سے 1200 کروڑ روپے کے کاروبار میں حصہ لیتے ہیں، اس لیے بائیکاٹ سے پھلوں کی منڈی پر نمایاں اثر پڑ سکتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…