اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

بین الاقوامی جریدے ”دی نیشنل انٹرسٹ“ نے بھی پاک فوج کی برتری کو تسلیم کر لیا

datetime 12  مئی‬‮  2025 |

اسلام آباد (رپورٹ)  بین الاقوامی دفاعی تجزیاتی جریدے “دی نیشنل انٹرسٹ” نے اپنی تازہ رپورٹ میں اعتراف کیا ہے کہ پاکستان کی فضائی قوت نے حالیہ تنازع میں بھارت کو فیصلہ کن نقصان پہنچایا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاک فضائیہ نے چینی ساختہ جے-10 سی طیاروں اور جدید PL-15 میزائلوں کے استعمال سے بھارتی جنگی طاقت کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔

جریدے کے مطابق، بھارت کے جدید رافیل طیارے، جنہیں دفاعی برتری کی علامت سمجھا جاتا تھا، پاکستان کی موثر اور چاق و چوبند فضائی حکمت عملی کے باعث تباہ کر دیے گئے۔ دفاعی مبصرین اس واقعے کو پاکستان کی ایک بڑی عسکری کامیابی قرار دے رہے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان نے دشمن کے جارحانہ عزائم کا نہ صرف منہ توڑ جواب دیا، بلکہ اپنے جدید اسلحہ، موثر تربیت اور بروقت کارروائی سے ثابت کر دیا کہ وہ کسی بھی جارحیت کے مقابلے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔ ان کے مطابق، یہ کامیابی پاکستان کی فوجی حکمت عملی، ٹیکنالوجی اور پیشہ ورانہ مہارت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

ادھر بین الاقوامی میڈیا اور دفاعی حلقے بھی پاک فضائیہ کی اس کارروائی کو سراہ رہے ہیں۔ برطانوی اخبار “ٹیلی گراف” نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا کہ پاکستان کے پائلٹس نے جدید فضائی میزائل سسٹمز کی مدد سے بھارتی فضائیہ کے پانچ طیارے مار گرائے، جن میں مہنگے رافیل جنگی طیارے بھی شامل تھے۔ اس کارروائی نے نہ صرف بھارت کے عسکری غرور کو توڑا بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کی فضائی برتری بھی اجاگر کی۔

برطانیہ کے معروف عسکری تجزیہ کار اور تاریخ دان پروفیسر مائیکل کلارک نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان اصل جنگ ‘عزت اور ساکھ’ کی تھی، جس میں پاکستان نے اپنی جدید عسکری ٹیکنالوجی اور مہارت سے بھارت کو حیران کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کو پاکستان کی صلاحیتوں کا شاید اندازہ نہیں تھا، لیکن اس جھڑپ نے نئی دہلی کو واضح پیغام دے دیا۔

دریں اثناء بی بی سی کی رپورٹ میں بھی تسلیم کیا گیا کہ پاکستان نے عسکری محاذ پر برتری حاصل کی، جبکہ بھارت کوئی فیصلہ کن ضرب لگانے میں ناکام رہا۔ رپورٹ کے مطابق، پاکستان کی فضائی طاقت بھارت کے لیے مسلسل چیلنج بنی ہوئی ہے، اور بھارت کی جانب سے اربوں روپے خرچ کرنے کے باوجود مطلوبہ نتائج حاصل نہ ہو سکے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…