پیر‬‮ ، 01 جون‬‮ 2026 

بھارتی آرمی چیف پاک فوج کے نشانے پرتھا

datetime 28  اپریل‬‮  2025 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) — 2019ء میں بھارت کی جانب سے بالاکوٹ پر کیے گئے حملے (جس میں چند درختوں کے تباہ ہونے اور ایک کوے کی ہلاکت کے سوا کوئی قابل ذکر نقصان نہیں ہوا) کے جواب میں پاکستان نے جو کارروائی کی، اس کا کچھ حصہ تو دنیا کے سامنے آیا، لیکن کئی اہم تفصیلات عوامی سطح پر شیئر نہیں کی گئیں۔

بھارت کی اس جارحیت کے جواب میں پاکستان نے نہ صرف دشمن کے دو جنگی طیارے مار گرائے بلکہ ایک بھارتی پائلٹ کو بھی حراست میں لیا، جسے بعد ازاں چائے پلا کر بھارت کے حوالے کر دیا گیا۔ پاکستان کے مؤثر جواب سے بوکھلاہٹ کا شکار بھارتی افواج نے اپنی ہی فوجی کارروائی میں ایک ہیلی کاپٹر کو تباہ کر دیا، جس نے بھارت کی مزید جگ ہنسائی کا سامان کیا۔

ذرائع کے مطابق، پاک فوج نے جوابی کارروائی کے دوران مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے پانچ مقامات کو نشانہ بنایا، لیکن اس کا مقصد صرف بھارت کو اپنی طاقت کا احساس دلانا تھا، نہ کہ جانی نقصان پہنچانا۔ ان حملوں میں ایک نشانہ ایسا بھی تھا جو کرشنا گھاٹی سیکٹر میں بھارتی بریگیڈ ہیڈکوارٹر سے محض 500 میٹر کے فاصلے پر واقع تھا۔ اطلاعات کے مطابق، اُس وقت بھارتی فوج کے سربراہ خود اسی ہیڈکوارٹر میں موجود تھے اور آپریشن کی نگرانی کر رہے تھے۔ اس خطرے کے پیش نظر وہ فوراً ہی وہاں سے روانہ ہو گئے۔

پاک فوج نے اپنے اس عمل سے بھارت کو یہ واضح پیغام دیا کہ اگر چاہتیں تو بھارتی بریگیڈ ہیڈکوارٹر کو بھی براہ راست نشانہ بنایا جا سکتا تھا۔ 2019ء کے ان واقعات نے دنیا بھر کے سامنے افواجِ پاکستان کی صلاحیتوں اور بھارتی افواج کی کمزوریوں کو بے نقاب کر دیا۔

اس ہزیمت کے بعد بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے فوجی سازوسامان کی خریداری کے لیے اربوں ڈالر مختص کیے تاکہ مستقبل میں ایسی شرمندگی سے بچا جا سکے۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی جنگ میں فتح محض اسلحے سے نہیں بلکہ بہترین تربیت اور بلند حوصلے سے حاصل کی جاتی ہے، اور ان دونوں پہلوؤں میں بھارتی فوج، پاکستان کی مسلح افواج کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لکڑی کا تختہ


خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…