اتوار‬‮ ، 07 جون‬‮ 2026 

جھاڑو کے تنکوں سے بنے ’’جعلی زیرے‘‘ کی فروخت کا انکشاف

datetime 15  اپریل‬‮  2025 |

نئی دہلی(ایناین آئی)بھارت کی مارکیٹس میں جعلی زیرے کی فروخت سے متعلق انکشاف سامنے آیا ہے، جعلی زیرے کو جھاڑو کے تنکوں کی مدد سے بنایا جا رہا ہے۔بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ریاست اتر پردیش میں جھاڑو کے تنکوں سے بنائے گئے جعلی زیرے کی کھیپ کو پکڑا گیا ہے، پولیس افسران نے ہزاروں کلو جعلی زیرہ برآمد کیا ہے جسے اصلی زیرے میں ملا کر ریاست کے مختلف شہروں میں لے جایا جانا تھا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق پولیس کی جانب سے اتر پردیش سے برآمد کیے گئے جعلی زیرے کو ناریل کی جھاڑو کے تنکوں، گڑ اور گھاس کے استعمال سے بنایا گیا تھا۔

پولیس نے اس معاملے میں 7 افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کر کے تفتیش شروع کر دی، گرفتار کیے گئے ملزمان سے تحقیقات جبکہ فرار ہونے والے ملزمان کی تلاش جاری ہے۔پولیس حکام کا کہناتھا کہ ضبط شدہ کھیپ مارکیٹ میں 60 لاکھ روپے سے زائد میں فروخت کی جا سکتی تھی۔میڈیا رپورٹس کے مطابق جعلی زیرہ بنانے والے افراد نے اپنے بیان میں انکشاف کیا کہ انہوں نے مختلف تاجروں کو اس زیرے کی فروخت سے قبل نقلی زیرے کو اصلی زیرے کے ساتھ 80 سے 20 کے تناسب میں ملا کر بیچنے کا منصوبہ بنایا تھا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ملزم جھاڑو بنانے کے لیے ناریل کے درخت کی گھاس خریدتا تھا جسے زیرے کے سائز کے ٹکڑوں میں پہلے کاٹا جاتا تھا، اس کے بعد اسے گرم گڑ کے ساتھ ملا کر خشک کیا جاتا تھا تاکہ اسے اصلی زیرے کی شکل دی جا سکے، خشک ہونے کے بعد نقلی زیرے کو اصلی زیرے کے چھوٹے حصوں میں ملا کر بازار میں فروخت کیا جاتا تھا۔پولیس کا کہنا تھا کہ جعلی زیرہ بنانے والے گروہ کے ارکان جعلی زیرہ بیچ کر 50 سے 60 گنا زیادہ منافع کما رہے تھے اور خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ گروہ 1 سال سے زائد عرصے سے یہ کام کر رہا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تلوم اور تلوم سے آگے


ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…