اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

ایرانی کرنسی تاریخ کی کم ترین سطح پر،ایک ڈالر کتنےلاکھ ریال میں بکنے لگا

datetime 27  مارچ‬‮  2025 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) ایران کو درپیش معاشی بحران اور امریکی پابندیوں کی شدت کے باعث ملکی کرنسی ریال کی قدر تاریخی گراوٹ کا شکار ہو گئی ہے۔ پہلی مرتبہ ایک امریکی ڈالر کی قیمت 10 لاکھ (1,039,000) ایرانی ریال سے تجاوز کر گئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکی حکومت کی سخت پالیسیوں، خصوصاً سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی “زیادہ سے زیادہ دباؤ” مہم کے نتیجے میں ایرانی کرنسی مزید کمزور ہو سکتی ہے۔

حالیہ رپورٹس کے مطابق، سابق امریکی صدر ٹرمپ نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کو ایک مراسلہ ارسال کرتے ہوئے خبردار کیا تھا کہ تہران کو اپنے جوہری پروگرام کے حوالے سے فیصلہ کرنا ہوگا، بصورت دیگر اسے مذاکرات یا ممکنہ فوجی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ تاہم، آیت اللہ خامنہ ای نے امریکی مطالبات کو “چالاک حکمت عملی” قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا، جبکہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی واضح کیا کہ جب تک امریکہ اپنی پالیسی میں تبدیلی نہیں لاتا، اس وقت تک واشنگٹن سے کسی قسم کے مذاکرات ممکن نہیں۔اقتصادی ماہرین کے مطابق، ایران میں مہنگائی کی سالانہ شرح 40 فیصد تک جا پہنچی ہے، جس کی وجہ سے عوام اپنی بچت کو ڈالر، سونے اور دیگر مستحکم کرنسیوں میں منتقل کر رہے ہیں۔ اس رجحان کے باعث ریال کی قدر میں مزید کمی اور مہنگائی میں مزید اضافہ متوقع ہے۔

یہ بھی یاد رہے کہ 2018 میں جب امریکہ نے ایران پر دوبارہ پابندیاں عائد کی تھیں، اس وقت ایک امریکی ڈالر 55,000 ایرانی ریال کے برابر تھا، لیکن حالیہ گراوٹ کے بعد اس کی قدر نصف سے بھی کم ہو چکی ہے۔ مزید برآں، سابق صدر ٹرمپ کے دور میں ایران کی تیل کی برآمدات اور زرمبادلہ کے ذخائر کو نشانہ بنانے کے لیے مزید سخت پابندیوں کا اعلان کیا گیا تھا، جس کے نتیجے میں ایران کی معیشت مسلسل دباؤ کا شکار ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر حالات اسی طرح رہے تو ایران کو مزید سنگین اقتصادی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جس سے عوامی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…