پیر‬‮ ، 09 فروری‬‮ 2026 

ٹرمپ کے ایگزیکٹو آرڈرز کو 2 ریاستوں نے چیلنج کر دیا

datetime 22  جنوری‬‮  2025 |

واشنگٹن(این این آئی)نیو جرسی اور ایریزونا کے اٹارنی جنرلز نے صدر ٹرمپ کے ایگزیکٹو حکم نامے کو عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان کردیا۔میڈیارپورٹس کے مطابق نئے امریکی صدر ٹرمپ نے حلف اٹھاتے ہی سابق صدر بائیڈن کے کئی احکامات اور اقدامات ہوا میں اڑا دیے۔امریکی ریاستوں اور شہری حقوق کے گروپوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دستخط شدہ نئے ایگزیکٹو آرڈرز کے خلاف پہلا مقدمہ دائر کردیا ہے۔

اس حوالے سے نیو جرسی کے اٹارنی جنرل میتھیو پلیٹکن نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پیدائشی شہریت کا حق واپس لینے کے حکم کو عدالت میں چیلنج کرنے جارہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کسی بھی صدر کو بادشاہت کی طرز پر ملکی معاملات چلانے کی اجازت نہیں دے سکتے، پیدائشی شہریت کا حق اس ملک کے بانیوں نے دیا تھا۔اٹارنی جنرل نیو جرسی کا کہنا تھا کہ امریکا کا آئین ملک میں پیدا ہونے والے تمام بچوں کو شہریت کا حق دیتا ہے، امریکا میں ہر دوسرا شخص کسی نہ کسی طرح امیگرینٹ کی نسل سے ہے۔میتھیو پلیٹکن نے کہا کہ اب امریکا میں قانون کی بالادستی کیلئے کھڑا ہونے کا وقت آگیا ہے، یہ ہماری سیاسی لڑائی نہیں بلکہ قانون کی بالادستی کیلیے کی جانے والی لڑائی ہے۔واضح رہے کہ 18ریاستوں کے ایک اتحاد نے بوسٹن کی وفاقی عدالت میں ایک مقدمہ دائر کیا ہے، جس میں یہ دلیل دی گئی ہے کہ ریپبلکن صدر کا پیدائشی شہریت کو ختم کرنے کا اقدام امریکی آئین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

رپورٹ کے مطابق یہ مقدمہ ٹرمپ کے ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کرنے کے چند گھنٹے بعد دائر کیا گیا تھا، یہ مقدمہ ٹرمپ کے اقتدار سنبھالنے کے بعد ان کے ایجنڈے کے خلاف دائر ہونے والا پہلا بڑا قانونی چیلنج ہے۔رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اس کے بعد مزید مقدمات بھی متوقع ہیں، جن میں ٹرمپ کے دیگر اقدامات کو بھی چیلنج کیا جائے گا، جن میں ایلون مسک کی زیر قیادت مشاورتی گروپ جسے محکمہ حکومتی کارکردگی کہا گیا ہے، وفاقی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے۔علاوہ ازیں اٹارنی جنرل ایریزونا نے بھی صدر ٹرمپ کے مذکورہ حکم نامے کو عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے۔اٹارنی جنرل ایریزونا کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کو پیدائشی شہریت کا حق ختم کرنے کا اختیار نہیں، پیدائشی شہریت کا حق صرف آئینی ترمیم کے ذریعے ہی تبدیل کیا جاسکتا ہے۔



کالم



بٹرفلائی افیکٹ


وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…