جمعرات‬‮ ، 20 اگست‬‮ 2026 

برطانیہ میں تارکین وطن کیخلاف گھیرا تنگ کرنے کا فیصلہ

datetime 5  ‬‮نومبر‬‮  2024 |

لندن(این این آئی) برطانوی وزارت داخلہ نے تارکین وطن کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس فیصلے کے تحت، حکومت ان افراد کے خلاف کارروائی کرے گی جو پاسپورٹ پھینک کر ملک بدری سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں۔برطانوی وزیر داخلہ سویلا بریورمن نے کہا ہے کہ حکومت پناہ کی درخواستوں کے لیے ایک ”فاسٹ ٹریک” نظام بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔

اس نظام کے تحت، پناہ کی درخواستوں کی جانچ پڑتال تیز تر طریقے سے کی جائے گی، تاکہ تارکین وطن کی صورتحال کو جلد حل کیا جا سکے۔ جو افراد اپنے پاسپورٹ کو جان بوجھ کر پھینکنے کی کوشش کریں گے، ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔ تارکین وطن کو حراست میں لینے کے اختیارات کو بڑھایا جائے گا، خاص طور پر ان افراد کے لیے جو اپنی شناخت چھپانے کی کوشش کرتے ہیں۔پناہ کی درخواستوں کی تیز رفتار جانچ: حکومت کی کوشش ہے کہ پناہ کی درخواستوں کا فیصلہ جلدی کیا جائے، تاکہ تارکین وطن کو جلدی سے ان کی قانونی حیثیت کا پتہ چل سکے۔

یہ اقدامات ایسے وقت میں اٹھائے جا رہے ہیں جب برطانیہ میں تارکین وطن کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے، خاص طور پر کانٹے کی تاروں کے ذریعے آنے والے افراد کی۔ حکومت کا مقصد غیر قانونی تارکین وطن کے بہاؤ کو کنٹرول کرنا اور پناہ کی درخواستوں کے نظام کو بہتر بنانا ہے۔یہ سخت اقدامات برطانیہ میں تارکین وطن کے حقوق اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر پناہ گزینی کے معاملات پر بحث و مباحثہ کے نئے دروازے کھول سکتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…