ہفتہ‬‮ ، 06 جون‬‮ 2026 

بابا صدیقی کے قتل کیس میں پیشرفت، قاتل سے کون رابطے میں تھا؟ پولیس نے پتا لگالیا

datetime 23  اکتوبر‬‮  2024 |

نئی دہلی (این این آئی)بھارتی جماعت نیشنلسٹ کانگریس پارٹی سے وابستہ سیاستدان بابا صدیقی قتل کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔بھارتی میڈیا کے مطابق پولیس نے دعوی کیا ہے کہ بابا صدیقی کا قاتل لارنس بشنوئی کے بھائی انمول بشنوئی سے مسلسل رابطے میں تھا۔پولیس نے بتایا کہ ملزم انمول بشنوئی سے رابطے میں رہنے کیلئے سوشل میڈیا ویب سائٹ اسنیپ چیٹ پر مختلف اکانٹ استعمال کرتا تھا، انمول کینیڈا اور امریکا سے ملزم سے رابطے میں تھا جب کہ ملزم کے قبضے سے 4 موبائل فون بھی برآمد ہوئے ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ایک فیس بک پوسٹ کے ذریعے گینگ کے ایک رکن نے دعوی کیا تھا کہ انہوں نے بابا صدیقی کو سلمان خان کے ساتھ قریبی تعلقات اور داد ابراہیم جیسی انڈر ورلڈ شخصیات سے مبینہ روابط کی وجہ سے نشانہ بنایا ہے۔اس سے قبل پولیس نے یہ بھی دعوی کیا تھا کہ ملزمان کے اسنیپ چیٹ سے بابا صدیقی کے بیٹے ذیشان کی تصویر بھی ملی ہے جب کہ بھارتی ریاست مہاراشٹرا کے سابق وزیر کو باندرہ ایسٹ میں بیٹے کے دفتر کے قریب گولیاں مارکر قتل کردیا گیا تھا۔

بابا صدیقی کے قتل کی ذمہ داری بشنوئی گینگ کے ساتھی شبھم رامیشور لونکر کے بھائی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم فیس بک پر کی تھی جس کے بعد لونکر کے بھائی کو بھی گرفتار کرلیا گیا۔ پولیس نے بابا صدیقی کے قتل کے سلسلے میں 10 افراد کو گرفتار کیا ہے جن میں 2 شوٹر اور ایک اسلحہ فراہم کرنے والا بھی شامل ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تلوم اور تلوم سے آگے


ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…