جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

فجرکی اذان سے نیند میں خلل آتا ہے اورسرمیں درد ہوتا ہے، اونچی آوازمیں اذان پرپابندی عائد کرنے کیلئے درخواست دے دی گئی

datetime 18  مارچ‬‮  2021 |

الہ آباد(این این آئی)الہ آباد سینٹرل یونیورسٹی کی وائس چانسلرسنگیتا سریواستوا نے درخواست دائرکی کہ اونچی آوازمیں اذان پرپابندی عائد کی جائے۔الہ آباد سینٹرل یونیورسٹی کی وائس چانسلرسنگیتا سریواستوا نے ضلعی انتظامیہ کوشکایت درج کرائی جس میں انہوں نے کہا کہ ہرروزصبح ساڑھے پانچ بجے اونچی آوازمیں دی جانے

والی فجرکی اذان سے نیند میں خلل آتا ہے اورسرمیں درد ہوتا ہے جس کے باعث ان کا کام متاثرہوتا ہے لہذا فجرمیں اونچی آوازمیں اذان پرپابندی عائد کی جائے۔وائس چانسلر نے کہا کہ وہ کسی بھی مذہب، ذات یا نسل کے خلاف نہیں لیکن اس مسئلے کا کوئی نہ کوئی حل نکلنا ضروری ہے۔ وائس چانسلرکی جانب سے صرف مائیک ہی نہیں بلکہ رمضان میں تیزآوازمیں مختلف اعلانات سے متعلق بھی شکایت درج کرائی گئی۔مسجد کی انتظامیہ نے وائس چانسلرکی شکایت کے بعد لاؤڈ اسپیکر کی آوازکم کردی،مائیک کی سمت بھی وائس چانسلرکی رہائش گاہ کی جانب سے موڑکردوسری جانب کردی۔ اس کے باجود اذان کی اونچی آوازکولے کرمختلف سیاسی جماعتوں نے اذان پر پابندی کے خلاف شہر میں مظاہرے بھی کیے۔دوسری جانب بھارتی مسلمانوں کی نمائندہ تنظیم آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے وائس چانسلرکی اس شکایت کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بھارت میں لوگ ایک دوسرے کے مذہبی جذبات کا احترام کرتے ہیں، یہاں مسجدوں سے اذانیں اورمندروں سے بھجن فضا میں گونجتے رہتے ہیں۔ اس لیے ان باتوں سے انتہا پسندی کی ہوا کا پرچار نہ کیا جائے تو بہترہے۔ الہ آباد سینٹرل یونیورسٹی کی وائس چانسلرسنگیتا سریواستوا نے ضلعی انتظامیہ کوشکایت درج کرائی جس میں انہوں نے کہا کہ ہرروزصبح ساڑھے پانچ بجے اونچی آوازمیں دی جانے والی فجرکی اذان سے نیند میں خلل آتا ہے اورسرمیں درد ہوتا ہے جس کے باعث ان کا کام متاثرہوتا ہے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…