جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

سری لنکن حکومت نے شدید تنقید کے بعد نقاب پر پابندی کی وضاحت کردی

datetime 17  مارچ‬‮  2021 |

کولمبو(این این آئی ) مسلمان خواتین پر برقع اور حجاب سے چہرہ ڈھانپنے کی پابندی سے متعلق سری لنکا نے وضاحت کردی ہے۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق سری لنکن حکومت کاکہنا تھاکہ برقعے اور حجاب پر پابندی محض تجویز تھی جس کی تاحال منظوری نہیں دی گئی۔واضح رہے کہ تین روز قبل سری لنکا کے وزیر برائے عوامی تحفظ

سارتھ ویراسکیرا نے برقع پہننے کو شدت پسندی قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ملک بھر میں نقاب پہننے پر پابندی عائد کرنے کی دستاویز پر دستخط کردیے گئے ہیں اور اسے کابینہ سے منظور کرایا جائے گا۔تاہم پریس کانفرنس میں حکومتی ترجمان کا کہنا تھا کہ ایسا کوئی بھی اقدام مشاورت کے بغیر نہیں ہوسکتا جس کے لیے طویل وقت درکار ہوگا۔ اس کے علاوہ سری لنکا کی وزارت خارجہ نے بھی اس حوالے سے یہی موقف اختیار کیا۔سری لنکا میں تعینات پاکستان کے سفیر سعد خٹک اور انسانی حقوق پر اقوام متحدہ کے نمائندہ خصوصی احمد شہید نے حجاب پر پابندی کے بیان کو مذہبی آزادی کے منافی قرار دیا تھا۔بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق سری لنکا نے اسلامی حجاب پرپابندی کے فیصلے سے اس لیے پسپائی اختیار کی ہے کہ آئندہ ہفتے جینیوا میں سری لنکا کے انسانی حقوق سے متعلق ریکارڈ کے حوالے سے اقوام متحدہ کے ایک اجلاس میں قرار داد پیش ہونے والی ہے۔ اس اجلاس میں ووٹ دینے والے 47 ممالک میں پاکستان،

بنگلادیش سمیت مسلم اکثریت رکھنے والے ممالک کی تعداد دوتہائی ہے۔مبصرین کا کہنا تھا کہ اگر انسانی حقوق سے متعلق سری لنکا کے خلاف قرارداد منظور ہوجاتی ہے تو اس کی حکومت اور عسکری حکام کو 2009 میں خانہ جنگی کے خاتمے کے لیے کیے گئے اقدامات پرکارروائی

کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اسی لیے سری لنکا اس حوالے سے انتہائی محتاط ہے۔قبل ازیں کورونا وائرس کی وبا کے دوران گزشتہ برس سری لنکا میں مسلمانوں پر میتیں دفنانے پر پابندی عائد کردی گئی تھی اور جبرا میتوں کو جلانے کے احکامات جاری کیے گئے تھے۔ اس پالیسی کے خلاف مقامی اور بین الاقوامی سطح پر مذمت کی گئی اور گزشتہ ماہ سری لنکا کو یہ پابندی ختم کرنا پڑی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…