جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

کورونا کے خوف سے3 ماہ تک ائیرپورٹ میں چھپارہنے والا شخص گرفتار، اتنا عرصہ کھانا کیسے کھایا؟خود ہی بتا دیا

datetime 19  جنوری‬‮  2021 |

واشنگٹن(این این آئی)امریکا کے شکاگو ائیرپورٹ سے ایک شخص کو گرفتار کیا گیا ہے جو تین ماہ تک ہوائی اڈے کے اندر چھپا رہاہے،وہ کورونا کے خوف سے جہاز پر سفر کرنے سے گریز کر رہا تھا۔میڈیارپورٹس کے مطابق چھتیس سالہ بھارتی نژاد ادیتیہ سنگھ  کا تعلق ریاست کیلفورنیا سے ہے۔ انہیں پولیس نے ہفتے کو شکاگو کے اوہیئر بین الاقوامی ہوائی اڈے سے گرفتار کیا۔ ان پر ایک ممنوعہ علاقے میں

غیر قانونی طورپر داخل ہونے اور وہا ں رہنے کا الزام ہے۔پولیس کو اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ وہ کورونا سے خوف زدہ تھے اور گھر واپس سفر نہیں کرنا چاہتے تھے۔ ان پر ائیرپورٹ سکیورٹی کے ایک اہلکار کا بیج چرانے کا بھی الزام عائد کیا گیا ہے۔کک کاونٹی کی جج سوزانا اورٹیز نے ادیتیہ سنگھ کو ایک ہزار ڈالر جرمانہ ادا کرنے کے بعد رہا کرنے کی اجازت دے دی تاہم سنگھ کو حکم دیا کہ وہ آئندہ سے ہوائی اڈے میں قدم نہ رکھے۔جج نے اس بات پر حیرت کا اظہار کیا کہ آخر کوئی شخص ایک سکیورٹی ایریا میں اتنے دنوں تک کیسے رہ سکتا ہے۔ سنگھ دس اکتوبر سن 2020 سے سولہ جنوری سن 2021 تک ہوائی اڈے پر رہے اور اس کے بارے میں کسی کو پتہ ہی نہ چل سکا۔جج نے مزید کہا کہ اس دوران جو کچھ بھی ہوا اور عدالت کو جو واقعات اور حقائق بتائے گئے ہیں وہ انتہائی حیران کن ہیں۔ ہوائی اڈہ ایک محفوظ جگہ ہے اور ایک شخص فرضی شناختی بیج کے ذریعہ اتنے دنوں تک وہاں موجود رہا۔ سفر کے لیے ہوائی اڈے کا پوری طرح محفوظ ہونا ضروری ہے۔وکیل استغاثہ کیتھلین ہیگرٹی نے بتایا کہ یونائٹیڈ ایئرلائنز کے دو ملازمین کی نگاہ ادیتیہ سنگھ پر پڑی اور وہ انہیں کچھ مشکوک لگا۔ جب سنگھ سے ان کی شناخت معلوم کی گئی تو انہوں نے ایک بیج دکھایا جو اس ممنوعہ علاقے کے ایک آپریشن منیجر کا تھا۔ منیجر نے گزشتہ اکتوبر میں اپنا بیج کھوجانے کی شکایت درج کرائی تھی۔ ائیرلائن اسٹاف نے معاملے کی پولیس کو خبرکی جس کے بعد سنگھ کو گرفتار کرلیا گیا۔سرکاری وکیل نے بتایا کہ سنگھ کا کہنا تھا کہ وہ کووڈ کی وجہ سے گھر جانے سے خوف زدہ تھا۔اس نے مزید بتایا کہ اسے ایک سکیورٹی بیج پڑا ہوا ملا جسے اس نے استعمال کرنا شروع کردیا۔ اس دوران وہ اتنے دنوں ہوائی اڈے پر مسافروں سے کھانا مانگ کر گذارا کرتا رہا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…