جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

چرواہے پر پولیس کی مار پیٹ کے بعد تونس میں لوگ سڑکوں پر نکل آئے، حیرت انگیز موقف

datetime 17  جنوری‬‮  2021 |

تونس سٹی (این این آئی)تونس میں پولیس اہلکاروں کے ہاتھوں ایک دیہاتی چرواہے کی مار پیٹ کے واقعے کے بعد کئی شہروں میں لوگ احتجاج کرتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے۔ تونس کے شمالی شہر سلیانہ میں سیکڑوں افراد نے پولیس کے ہاتھوں ایک دیہاتی پر مار پیٹ کے خلاف مظاہرے کیے گئے۔ سلیانہ میں پولیس اور مشعل مظاہرین کے

درمیان تصادم بھی ہوا۔میڈیارپورٹس کے مطابق تونس میں تشدد اور مظاہروں کے واقعات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے جب دوسری طرف ملک میں جمہوری تبدیلی اور انتقال اقتدار کی دسویں سالگرہ منانے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔عینی شاہدین نے خبر رساں اداروںکو بتایا کہ مظاہرین نے سلیانہ شہر میں گاڑیوں کے ٹائر جلا کر سڑکیں بند کر دیں اور پولیس پر سنگ باری کی۔ جواب میں سیکیورٹی فورسز نے مظاہرین پر آنسوگیس کی شیلنگ کی۔سوشل میڈیا پروائرل ہونے والی ایک فوٹیج میں پولیس اہلکاروں کو سلیانہ میں ایک بکریوں کے چرواہے کے ساتھ توہین آمیز سلوک کرتے دیکھا جاسکتا ہے۔ پولیس نے چرواے سے کہا کہ اس کی لاپرواہی سے بکریاں سرکاری عمارت میں گھس گئی تھیں۔ سوشل میڈیا پر یہ ویڈیو تیزی کے ساتھ پھیلی اور شہریوں نے پولیس کی طرف سے برتائو کو توہین آمیز اور ظالمانہ قرار دیا ۔پراسیکیوٹر جنرل نے اس واقعے کی تحقیقات شروع کردی ۔ پولیس حکام نے بھی بدسلوکی کے مرتکب اہلکار کو معطل کرکے اس کے خلاف انتظامی تحقیقات شروع کی ہیں۔ادھر تونس کیساحلی شہر سوسہ میں بھی گذشتہ شب پولیس اور مظاہرین کے درمیان پرتشدد واقعات کی اطلاعات ہیں۔ مظاہرین نے پولیس پر پتھرائو کیا جب کہ جواب میں پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے ان پر اشک آور گیس کی شیلنگ کی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…