چرواہے پر پولیس کی مار پیٹ کے بعد تونس میں لوگ سڑکوں پر نکل آئے، حیرت انگیز موقف

  اتوار‬‮ 17 جنوری‬‮ 2021  |  0:30

تونس سٹی (این این آئی)تونس میں پولیس اہلکاروں کے ہاتھوں ایک دیہاتی چرواہے کی مار پیٹ کے واقعے کے بعد کئی شہروں میں لوگ احتجاج کرتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے۔ تونس کے شمالی شہر سلیانہ میں سیکڑوں افراد نے پولیس کے ہاتھوں ایک دیہاتی پر مار پیٹ کے خلاف مظاہرے کیے گئے۔ سلیانہ میں پولیس اور مشعل مظاہرین کےدرمیان تصادم بھی ہوا۔میڈیارپورٹس کے مطابق تونس میں تشدد اور مظاہروں کے واقعات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے جب دوسری طرف ملک میں جمہوری تبدیلی اور انتقال اقتدار کی دسویں سالگرہ منانے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔عینی شاہدین نے


خبر رساں اداروںکو بتایا کہ مظاہرین نے سلیانہ شہر میں گاڑیوں کے ٹائر جلا کر سڑکیں بند کر دیں اور پولیس پر سنگ باری کی۔ جواب میں سیکیورٹی فورسز نے مظاہرین پر آنسوگیس کی شیلنگ کی۔سوشل میڈیا پروائرل ہونے والی ایک فوٹیج میں پولیس اہلکاروں کو سلیانہ میں ایک بکریوں کے چرواہے کے ساتھ توہین آمیز سلوک کرتے دیکھا جاسکتا ہے۔ پولیس نے چرواے سے کہا کہ اس کی لاپرواہی سے بکریاں سرکاری عمارت میں گھس گئی تھیں۔ سوشل میڈیا پر یہ ویڈیو تیزی کے ساتھ پھیلی اور شہریوں نے پولیس کی طرف سے برتائو کو توہین آمیز اور ظالمانہ قرار دیا ۔پراسیکیوٹر جنرل نے اس واقعے کی تحقیقات شروع کردی ۔ پولیس حکام نے بھی بدسلوکی کے مرتکب اہلکار کو معطل کرکے اس کے خلاف انتظامی تحقیقات شروع کی ہیں۔ادھر تونس کیساحلی شہر سوسہ میں بھی گذشتہ شب پولیس اور مظاہرین کے درمیان پرتشدد واقعات کی اطلاعات ہیں۔ مظاہرین نے پولیس پر پتھرائو کیا جب کہ جواب میں پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے ان پر اشک آور گیس کی شیلنگ کی۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

نپولین فالٹ

نپولین بونا پارٹ 18 جون 1815ء کو واٹر لو میں آخری جنگ ہار گیا‘ فرانس کے عروج کا سورج ڈھل گیاتاہم نپولین گرتے گرتے برطانیہ کے تمام توسیع پسندانہ خواب چکنا چور کر گیا‘ انگریزوں کی ایسٹ انڈیا جیسی کمپنیاں دنیا کے درجنوں خطے ہڑپ کر چکی تھیں‘ بادشاہ کا خیال تھا یہ کام یابیاں انیسویں صدی کے آخر تک ....مزید پڑھئے‎

نپولین بونا پارٹ 18 جون 1815ء کو واٹر لو میں آخری جنگ ہار گیا‘ فرانس کے عروج کا سورج ڈھل گیاتاہم نپولین گرتے گرتے برطانیہ کے تمام توسیع پسندانہ خواب چکنا چور کر گیا‘ انگریزوں کی ایسٹ انڈیا جیسی کمپنیاں دنیا کے درجنوں خطے ہڑپ کر چکی تھیں‘ بادشاہ کا خیال تھا یہ کام یابیاں انیسویں صدی کے آخر تک ....مزید پڑھئے‎