جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

ولی عہد محمد بن سلمان کا ایسا شہر بسانے کا اعلان جہاں پر سڑکیں ،گاڑیاں اور نہ پیٹرول یا گیس کی ضرورت ہو گی

datetime 12  جنوری‬‮  2021 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے اپنی نوعیت کا انوکھا شہر بسانے کا اعلان کر دیا ۔ ٹائمز آف انڈیا کے مطابق کچھ روز قبل محمد بن سلمان نےاپنی ایک تقریر میں اس شہر کے حوالے سے کہا کہ اس کانام ’’دی لائن‘‘ ہو گا جو 500ارب ڈالر کے منصوبے نیوم کا ایک حصہ ہو گا ۔ یہ دنیا کا واحد اپنی نوعیت کا انوکھا شہر ہو گا جہا ں پر گاڑیاںہونگی اور نہ ہی سڑکیں ہونگی

بلکہ اس شہر میں پیٹرول اور گیس کی بھی ضرورت نہیں پڑے گی یہ شہر آلودگی سے مکمل پاک ہو گا ۔ اس شہر میں 10لاکھ لوگوں کی رہنے کی گنجائش ہو گی اس منصوبے میں 2030ءتک 38ہزار نئی نوکریاں نکلیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ شہر دنیا کے انسانوں کیلئے انقلاب سے کم نہیں ہوگا ۔شہر کے انفرا اسٹرکچر پر 100 سے 200 ارب ڈالر کا خرچہ آئے گا۔خیال رہے کہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے بحیرہ احمر کے کنارے مملکت کے نئے بڑے شہری منصوبے نیوم کو ’’ ایک بڑے ملک کے اندر ایک چھوٹا ملک ‘‘ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اس میں نیو م ریویرا کے نام سے پہلی بستی 2020ء تک تیار ہونے کا کہا گیا تھا ۔انھوں نے یہ بات امریکی ٹی وی کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہی ۔انھوں نے بتایا کہ شاہ سلمان بن عبدالعزیز نےاس مرتبہ موسم گرما کی چھٹیاں نیوم ہی میں گزاری ہیں،اسی اس منصوبے کی اہمیت کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔سعودی ولی عہد نے کہا کہ میرے خیال میں سمندر کے کنارے بارہ ، چودہ چھوٹے بڑے شہر اور قصبے آباد ہوں گے۔اس کے علاوہ وادی میں مزید چھے ،سات شہر اور قصبے تعمیر کیے جائیں گے۔بعض پہاڑی سلسلوں میں بھی تعمیر کیے جائیں گے ،اس میں ایک بہت بڑا صنعتی زون ہوگا ، ایک بڑی بندرگاہ، تین ہوائی اڈے اور ایک عالمی ہوائی اڈا ہو گا۔انھوں نے بتایا کہ نیوم ایک بہت بڑا اور مختلف قسم کا منصوبہ ہے۔اس میں ہر سال ہم دو سے تین نئے قصبے تعمیر کریں گے اور نیوم شہر 2025ء تک مکمل ہوجائے گا۔انھوں نے یہ بھی نشان دہی کی ہے کہ بڑے علاقائی اور عالمی کردار نیوم میں سرمایہ لگانے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ان میں سے بہت سے عالمی سرمایہ کار بحیرہ احمر کے ساتھ محل وقوع کے پیش نظر اس منصوبے کے لیے نئی نئی تجاویز کے ساتھ آرہے ہیں ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…