جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

4 سال بعد قطر سے پہلی پرواز کی سعودی عرب آمد، دونوں ممالک کے لوگ سالوں بعد اپنے پیاروں سے مل کر آبدیدہ ہو گئے

datetime 12  جنوری‬‮  2021 |

ریاض (مانیٹرنگ +این این آئی) چار سال بعد سعودی اور قطر کے تعلقات معمول پرآ گئے، اتنے سالوں بعد پہلی پرواز قطر سے ریاض پہنچی تو دونوں ملکوں کے لوگ اپنے پیاروں سے مل کر آبدیدہ ہو گئے، انڈیپیڈنٹ اردو نے اپنے ٹوئٹ میں ائیرپورٹ کے مناظر کی ویڈیو شیئر کی اور لکھا کہ جذبات بیان نہیں ہو سکتے، دوحہ سے پہلی

پرواز کی ریاض آمد، اپنے ٹوئٹ میں مزید لکھا کہ گزشتہ ہفتے قطر اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات کی بحالی کے بعد پہلی پرواز ریاض پہنچی تو ایک بھائی تقریباً چار سال بعد اپنی بہن سے ملنے کا منتظر تھا۔ اس موقع پر ایک خاتون کا کہنا تھا کہ چار سال قبل آئی تھی، اب یہ محاصرہ ختم ہو گیاہے، انہوں نے کہا کہ میں نے اس سرزمین پر پہنچ کر شکرانے کے لئے سجدے کئے، دوسری جانب بحرین نے خلیجی ممالک میں مصالحت کے بعد قطری قیادت کو مناما میں براہ راست مذاکرات کی دعوت دی ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق قطری وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ بحرین کی طرف سے قطری حکومت سے کہا گیا کہ وہ سعودی عرب کے شہر العلا میں 5 جنوری کو ہونے والے جی سی سی سربراہ اجلاس کے اعلامیے پرعمل درآمد کے کے لیے اپنا وفد بحرین بھیجے تاکہ دونوں ملکوں کے درمیان براہ راست بات چیت شروع کی جا سکے۔بحرینی سول ایوی ایشن کے ترجمان نے ایک بیان میں بتایا کہ ان کے ملک نے قطر کے لیے فضائی حدود کھول دی ہیں اور قطری فضائی سروس کے لیے طریقہ کار تبدیل کردیا گیا ہے۔سعودی عرب کے نائب وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود یمن کے لیے اقوام متحدہ کے امن ایلچی مارٹن گریفیتھس کو یقین دلایا ہے کہ ان کا ملک یمن میں جاری بحران کا

سیاسی حل تلاش کر رہا ہے۔غیرملکی خبررساں ادرے کے مطابق ٹویٹر پر پوسٹ کردہ ایک بیان میں خالد بن سلمان نے کہا کہ انہوں نے اقوام متحدہ کے امن ایلچی سے یمن میں جاری بحران پر بات چیت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم نے یو این ایلچی کو یقین دلایا کہ سعودی عرب یمن میں امن واستحکام کے قیام اور تنازع کے پرامن اور جامع سیاسی حل کے لیے کوششیں جاری رکھے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…