جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

جو گرجتے ہیں وہ برستے نہیں پاکستان کو دھمکیاں دینے والی بھارت کی آدھی فوج شدید ذہنی دبائوکا شکار،امریکی تھنک ٹینک کے چشم کشا انکشافات

datetime 10  جنوری‬‮  2021 |

نئی دہلی(این این آئی)پاکستان کے خلاف جعلی سرجیکل اسٹرائیکس کا بہانہ بنانے والی بھارت کی 13 لاکھ آرمی کی آدھی تعداد شدید دبائو کے باعث ڈری سہمی ہے جہاں اس کے سالانہ متعدد اہلکار تنگ آکر خود ہی اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیتے ہیں۔ غیر ملکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق

امریکی تھنک ٹینک انسٹیٹیوٹ برائے بھارت کے موجودہ کرنل نے بھارتی آرمی سے متعلق ایک تحقیق کی ۔ تحقیق کرنے والے کرنل اے کے مور نے بتایا کہ بھارتی فوج میں ذہنی دبائو بڑھتا جارہا ہے، جس میں گزشتہ دو دہائیوں کے دوران نمایا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جو دونوں فوج آپریشنل دبائو کے شکار کے ساتھ ساتھ غیر آپریشنل دبا ئوکے بھی شکار ہیں۔ رپورٹ میں مقبوضہ جموں و کشمیر میں آپریشنز ان آرمی اہلکاروں کے ذہن پر اس دبا ئوکی سب سے بڑی وجہ قرار دی گئی ۔ تحقیقی رپورٹ میں بتایا گیا کہ محاذ پر موجود مسلح اہلکاروں کا ذہنی دبائوان کے پیشے سے وابستہ ہیں، تاہم متعدد ایسے اہلکار بھی موجود ہیں جو اپنے معاشی حالات کی وجہ سے بھی شدید دبا ئومیں ہے جس کے باعث ان کی صحت متاثر ہوتی ہے جس سے ان کی یونٹ بھی متاثر ہوجاتی ہے۔ فروری 2019 میں پاکستان کے ہاتھوں دنیا بھر میں رسوا ہونے والی بھارتی فوج نے اس تحقیق کو تکنیکی وجوہات کو بنیاد بنا کر مسترد کردیا۔ واضح رہے کہ بھارت کے اپنے

اعداد و شمار کے مطابق تقریبا 100 سے زائد بھارتی فوجی خود ہی اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیتے ہیں۔ بھارت کے فوجیوں کی خودکشی میں ہلاکت کسی بھی دشمن کی جانب سے مارے جانے والے فوجیوں سے بھی زائد ہے۔بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق گزشتہ ایک دہائی کے دوران بھارت کے تقریبا ایک ہزار فوجی خودکشی کر چکے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…