پیر‬‮ ، 12 جنوری‬‮ 2026 

بھارت ایک منتشر اور بے حال ملک ہے اوباما کی اپنی کتاب میں بھارت پر کڑی تنقید

datetime 21  ‬‮نومبر‬‮  2020 |

نیویارک(این این آئی ) سابق امریکی صدر بارک اوباما نے اپنی نئی کتاب میں کہا ہے کہ جنونیت اور انتہا پسندی بھارتی معاشرے میں سرکاری اور نجی سطح پر سرایت کر چکی اور پاکستان دشمنی بھارت میں قومی یکجہتی اجاگر کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق

سابق امریکی صدر بارک اوباما کی نئی کتاب کا شائع ہوئی اے پرومسٹ لینڈہے۔ اپنی کتاب میں اوباما نے بھارت میں مسلمان مخالف انتہا پسندی اور پاکستان دشمنی کے بارے میں چند اہم حقائق سے پردہ اٹھایا ہے۔کتاب کے صفحہ نمبر 600 اور 601 میں اوباما نے نومبر 2020 میں بھارت کے دورے کے دوران سابق بھارتی وزیراعظم من موہن سِنگھ سے ملاقات کا حوالہ دیا اور اپنی ذاتی رائے دیتے ہوئے لِکھا کہ بڑھتے ہوئے مسلمان مخالف جذبات نے ہندو قوم پرست بی جے پی کے اثر کو مضبوط کیا (یاد رہے کہ اس وقت حزبِ اختلاف کی مرکزی جماعت بے جے پی تھی)۔سابق بھارتی وزیراعظم کے اپنے بیان کے مطابق بھارت میں کسی غیر یقینی صورتحال میں مذہبی اور نسلی یکجہتی کے غلط استعمال سے فائدہ اٹھانا بھارتی سیاست دانوں کے لیے کوئی مشکل کام نہیں۔یہ بھی لکھا کہ جنونیت اور انتہا پسندی بھارتی معاشرے میں سرکاری اور نجی سطح پر بہت گہرائی تک سرایت کرچکی ہے اور پاکستان دشمنی بھارت میں قومی یکجہتی

اجاگر کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔کتاب میں تحریر ہے کہ بہت سے بھارتی اس بات پر فخر کرتے ہیں کہ بھارت نے پاکستانی جوہری طاقت کا مقابلہ کرنے کے لیے ایٹمی ہتھیار تیار کیے لیکن انہیں اس بات کا قطعا ادراک نہیں کہ کسی بھی طرف سے ذرا سی غلطی پورے خطے کی

تباہی کا باعث بن سکتی ہے۔اوباما نے کتاب میں لکھا کہ آج مجموعی طور پر بھارتی معاشرہ نسل اور قوم پرستی کے گرد مرکوز ہے، معاشی ترقی کے باوجود، بھارت ایک منتشر اور بے حال ملک ہے، جو بنیادی طور پر مذہب اور قوم میں بٹا ہوا ہے اور بدعنوان سیاسی عہدے داروں

، تنگ نظر سرکاری افسروں اور سیاسی شعبدہ بازوں کی گرفت میں ہے۔اوباما نے کہا کہ انتہا پسندی، جنونیت، بھوک، بدعنوانی، قومیت، نسلیت اور مذہبی عدم رواداری کے مسائل بھارت میں اس حد تک مضبوط ہو چکے ہیں کہ کوئی بھی جمہوری نظام اس کو مستقل طور پر جکڑ نہیں سکتا،

یہ تمام مسائل اگر وقتی طور پر قابو میں بھی ہو جائیں تو معاشی ترقی کی روکاوٹ یا آبادیاتی تبدیلی یا کسی طاقتور سیاسی رہنما کے ہوا دینے پر لوگ دوبارہ انتہا پسندی اور سر کشی کی نذر ہو جاتے ہیں۔بارک اوباما نے اپنی کتاب میں من موہن سنگھ کے وزیراعظم کے عہدے تک پہنچنے کی تعریف کی لیکن یہ بھی کہا کہ بھارت میں سِکھ اقلیت کو اکثر نشانہ بنایا جا تا ہے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا


والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…