جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

بھارت ایک منتشر اور بے حال ملک ہے اوباما کی اپنی کتاب میں بھارت پر کڑی تنقید

datetime 21  ‬‮نومبر‬‮  2020 |

نیویارک(این این آئی ) سابق امریکی صدر بارک اوباما نے اپنی نئی کتاب میں کہا ہے کہ جنونیت اور انتہا پسندی بھارتی معاشرے میں سرکاری اور نجی سطح پر سرایت کر چکی اور پاکستان دشمنی بھارت میں قومی یکجہتی اجاگر کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق

سابق امریکی صدر بارک اوباما کی نئی کتاب کا شائع ہوئی اے پرومسٹ لینڈہے۔ اپنی کتاب میں اوباما نے بھارت میں مسلمان مخالف انتہا پسندی اور پاکستان دشمنی کے بارے میں چند اہم حقائق سے پردہ اٹھایا ہے۔کتاب کے صفحہ نمبر 600 اور 601 میں اوباما نے نومبر 2020 میں بھارت کے دورے کے دوران سابق بھارتی وزیراعظم من موہن سِنگھ سے ملاقات کا حوالہ دیا اور اپنی ذاتی رائے دیتے ہوئے لِکھا کہ بڑھتے ہوئے مسلمان مخالف جذبات نے ہندو قوم پرست بی جے پی کے اثر کو مضبوط کیا (یاد رہے کہ اس وقت حزبِ اختلاف کی مرکزی جماعت بے جے پی تھی)۔سابق بھارتی وزیراعظم کے اپنے بیان کے مطابق بھارت میں کسی غیر یقینی صورتحال میں مذہبی اور نسلی یکجہتی کے غلط استعمال سے فائدہ اٹھانا بھارتی سیاست دانوں کے لیے کوئی مشکل کام نہیں۔یہ بھی لکھا کہ جنونیت اور انتہا پسندی بھارتی معاشرے میں سرکاری اور نجی سطح پر بہت گہرائی تک سرایت کرچکی ہے اور پاکستان دشمنی بھارت میں قومی یکجہتی

اجاگر کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔کتاب میں تحریر ہے کہ بہت سے بھارتی اس بات پر فخر کرتے ہیں کہ بھارت نے پاکستانی جوہری طاقت کا مقابلہ کرنے کے لیے ایٹمی ہتھیار تیار کیے لیکن انہیں اس بات کا قطعا ادراک نہیں کہ کسی بھی طرف سے ذرا سی غلطی پورے خطے کی

تباہی کا باعث بن سکتی ہے۔اوباما نے کتاب میں لکھا کہ آج مجموعی طور پر بھارتی معاشرہ نسل اور قوم پرستی کے گرد مرکوز ہے، معاشی ترقی کے باوجود، بھارت ایک منتشر اور بے حال ملک ہے، جو بنیادی طور پر مذہب اور قوم میں بٹا ہوا ہے اور بدعنوان سیاسی عہدے داروں

، تنگ نظر سرکاری افسروں اور سیاسی شعبدہ بازوں کی گرفت میں ہے۔اوباما نے کہا کہ انتہا پسندی، جنونیت، بھوک، بدعنوانی، قومیت، نسلیت اور مذہبی عدم رواداری کے مسائل بھارت میں اس حد تک مضبوط ہو چکے ہیں کہ کوئی بھی جمہوری نظام اس کو مستقل طور پر جکڑ نہیں سکتا،

یہ تمام مسائل اگر وقتی طور پر قابو میں بھی ہو جائیں تو معاشی ترقی کی روکاوٹ یا آبادیاتی تبدیلی یا کسی طاقتور سیاسی رہنما کے ہوا دینے پر لوگ دوبارہ انتہا پسندی اور سر کشی کی نذر ہو جاتے ہیں۔بارک اوباما نے اپنی کتاب میں من موہن سنگھ کے وزیراعظم کے عہدے تک پہنچنے کی تعریف کی لیکن یہ بھی کہا کہ بھارت میں سِکھ اقلیت کو اکثر نشانہ بنایا جا تا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…