جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

رواں سال اب تک 70 لاکھ افراد بھوک سے مر چکے اگلے 6مہینوں میں دنیا بھر میں کیا کچھ ہوسکتا ہے؟ خوفناک انکشافات

datetime 14  اکتوبر‬‮  2020 |

نیویارک (اے پی پی)اقوام متحدہ کے ورلڈ فوڈ پروگرام کاکہنا ہے کہ کورونا وائرس کی عالمی وبا کی وجہ سے اُسے آئندہ چھ ماہ میں خشک سالی اور قحط سے بچنے کے لئے6.8ارب ڈالر کی ضرورت ہو گی۔گزشتہ ہفتے پروگرام کو امن کے نوبل انعام سے نوازا گیا ہے۔

یہ انعام اُسے تنازعات اور جنگ کو ہتھیار کے طور پر استعمال ہونے سے روکنے پر دیا گیا ہے۔ پروگرام کا کہنا ہے کہ اسے اپنی امدادی سرگرمیوں کھے لیے اب تک 1.6ارب ڈالر موصول ہوئے ہیں۔ورلڈ فوڈ پروگرام کے ڈائریکٹر ڈیوڈ بیزلے نے یو این فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن کے زیر اہتمام ایک کانفرنس میں کہا کہ قحط اور خشک سالی سے بچنے کیلئے اُسے کہیں زیادہ رقم درکار ہے۔بیزلے کا کہنا تھا کہ اس سال اب تک 70 لاکھ افراد بھوک سے مر چکے ہیں، اور کورونا وائرس کی وجہ سے یہ تعداد دگنی ہو سکتی ہے۔روم میں قائم ورلڈ فوڈ پروگرام کا کہنا ہے کہ وہ تقریباً 88 ملکوں میں 9 کروڑ 70 لاکھ افراد کی مدد کر رہا ہے، اور دنیا میں ہر 9 میں سے 1 فرد کو خوراک کی قلت کا سامنا ہے۔دنیا میں بھوک کی شرح میں کئی عشروں تک کمی دیکھنے میں آئی، تاہم 2016 سے تنازعات اور ماحولیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے بھوک میں اضافہ ہو رہا ہے۔بیزلے کا کہنا تھا کہ اگر آج دنیا میں دولت کے تناسب کے حوالے سے سوچا جائے تو پھر کسی بچے کو بھوک سے مرنا نہیں چاہئیے۔

پروگرام کا کہنا ہے کہ اس نے طبی ساز و سامان اور ادویات کے مال بردار جہاز 120 ملکوں میں بھیجے ہیں، اور ایسے مقامات جہاں فضائی سفر ممکن نہیں تھا، وہاں امدادی کارکنوں کو بحری جہازوں اور کشتیوں کے ذریعے بھیجا گیا ہے۔ورلڈ فوڈ پروگرام دنیا میں انسانی ہمدردی کے

تحت کام کرنے والا سب سے بڑا ادارہ ہے جو کہ صرف عطیات کے سہارے چل رہا ہے۔ یہ دنیا بھر میں ایک کروڑ 70 لاکھ سے زیادہ بچوں کو سکول میں کھانا فراہم کرتا ہے اور 2019 میں اس نے 42 لاکھ ٹن خوراک ضرورت مند ممالک کو فراہم کی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…