جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

آرمینیا،آذربائیجان کے درمیان جنگ بندی کے ایک گھنٹے بعد پھر جنگ چھڑ گئی ،ہزاروں لوگ نقل مکانی کرنے پر مجبور ہو گئے

datetime 11  اکتوبر‬‮  2020 |

باکو(مانیٹرنگ ڈیسک)غیر ملکی میڈیا کے مطابق سیز فائر کیلئے آذربائیجان اور آرمینیا کے ماسکو میں 10گھنٹے تک ہونیوالے مذاکرات میں طے پایا کہ دونوں ممالک کی افواج 10اکتوبر کودوپہر 12 بجے سے حملے روک دیں گی،انٹرنیشنل کمیٹی آف ریڈ کراس جنگ بندی معاہدے پر عمل درآمد میں

مدد کرے گی اور فریقین قیدیوں کا تبادلہ،لاشوں کی واپسی شروع کر یں گے ،ڈی ڈبلیوکے مطابق آذربائیجان اور آرمینیا نے ماسکو معاہدے پر عملدرآمد شروع ہوتے ہی ایک دوسرے پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کے الزامات لگادئیے ،آذربائیجان نے الزام عائد کیا ہے کہ آرمینیا کی فوجوں نے سیز فائر شروع ہونے کے بعد بھی کئی گنجان آباد علاقوں پر حملے کیے ،اس پر آرمینیا نے بھی آذربائیجان پر ایسے ہی الزامات عائد کیے ،دونوں ممالک نے الزامات کے ساتھ حملوں کی فوٹیج بھی جاری کردی،یاد رہے 27 ستمبر سے شروع ہونے والی جنگ میں 300 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ ہزاروں لوگ نقل مکانی کرنے پر مجبور ہوئے ۔قبل ازیںآرمینیا اور آذربائیجان نے جنگ بندی پر اتفاق کر لیا جس پر آج سے عملدرآمد ہو گا۔غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق آرمینیا اور آذربائیجان کے درمیان سیز فائر معاہدے پر آج سے عمل ہو گا۔ اس موقع پر روسی وزیر خارجہ نے کہا کہ سیز فائر معاہدے میں قیدیوں کا تبادلہ بھی شامل ہے۔واضح رہے کہ روسی وزیر خارجہ کا بیان آذربائیجان اور آرمینیا میں 10 گھنٹے کے طویل مذاکرات بعد سامنے آیا۔دونوں ممالک کے درمیان 27 ستمبر سے شروع ہونے والی اس کشیدگی کے باعث 300 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ ہزاروں افراد نقل مکانی کرنے پر مجبور ہوئے ہیں۔آذربائیجان اور آرمینیا کے وزرائے خارجہ کی مذاکرات کے لیے ماسکو میں پہلی باضابطہ ملاقات ہوئی تھی۔ دونوں وزرائے خارجہ نے روسی صدر کی دعوت پر مذاکرات کیے تھے تاہم مذاکرات کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی نہیں ہو سکی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…