جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

آرمینیا سے جنگ، طیب اردوان کی کھل کر حمایت ترکی کی کونسی بڑی شخصیات خود آذربائیجان پہنچ گئی

datetime 6  اکتوبر‬‮  2020 |

باکو(مانیٹرنگ ڈیسک )آرمینیا سے جنگ کے دوران ترکی کے وزیر خارجہ میولوت چاوش اولو اظہار یکجہتی کے لیے خود آذربائیجان پہنچ گئے۔آرمینیا سے جاری جنگ میں ترکی نے مکمل طور پر آذربائیجان کی حمایت کی ہے اور ساتھ ہی آرمینیا پر بھی متنازع علاقے کو فی الفور خالی کرنے کا

مطالبہ کیا ہے۔نجی ٹی وی جیو کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ روز آذری صدر الہام علیوف نے بھی ترک کے مسلح ڈرونز کی تعریف کی تھی اور امن مذاکرات میں کردار ادا کرنے کا کہا تھا جس کے بعد آج ترک وزیر خارجہ بھی باکو پہنچ چکے ہیں۔ترک وزیر خارجہ میولوت چاوش اولو آذربائیجان کے دارالحکومت باکو پہنچے تو آذری صدر الہام علیوف نے ان کا استقبال کیا۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان ملاقات ہوئی جس میں ‘نگورنو کاراباخ کے معاملے پر گفتگو کی گئی۔اس موقع پر اپنے بیان میں ترک وزیرخارجہ نے کہا کہ عالمی برادری غیر مشروط جنگ بندی کے مطالبے کے بجائے حق کا ساتھ دے، یعنی آذربائیجان کی حمایت کرے اور آرمینیا پر زور دے کہ وہ مقبوضہ علاقے خالی کرے۔انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر آذربائیجان اور آرمینیا سے ایک جیسا سلوک قبضہ کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کے مترادف ہے۔دوسری جانب آذری فوج کی پیش قدمی جاری ہے اور مزید 3 دیہات سے قبضہ چھڑا کر اپنی پوزیشن مستحکم کرلی ہے۔ان فتوحات کا اعلان آذر بائیجان کے صدر الہام علیوف نے کیا کہ نگورنو کاراباخ کے ضلع جبرائیل کے مزید 3 دیہات سے آرمینیا کا قبضہ چھڑا لیا ہے۔خیال رہے کہ عالمی سطح پر ’نگورنو کارا باخ‘ آذربائیجان کا تسلیم شدہ علاقہ ہے تاہم اس پر آرمینیا کے قبائلی گروہ نے فوج کے ذریعے قبضہ کررکھا ہے جب کہ اسی قبضے کے باعث پاکستان آرمینیا کو تسلیم نہ کرنے والا واحد ملک ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…