کورونا کے مرکز ووہان سے 8 ماہ کے بعد بین الاقوامی پروازوں کا آغاز

  جمعہ‬‮ 18 ستمبر‬‮ 2020  |  0:31

اسلام آباد (این این آئی)عالمی وبا کورونا وائرس کے مرکز سمجھے جانے والے چینی شہر ووہان سے بین الاقوامی پروازوں کا دوبارہ آغاز کردیا گیا۔واضح رہے کہ مبینہ طور پر چینی شہر ووہان سے گذشتہ سال کے آخر میں پھیلنے والا کورونا وائرس پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے اور اب تک اس سے دنیا بھر میں 3 کروڑ سے زائد افراد متاثر اور 9 لاکھ 45 ہزار سے زائد افرادہلاک ہوچکے ہیں۔حکام کے مطابق چین میں کورونا سے 85 ہزار سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں جبکہ 4 ہزار 600 سے زائد افراد موذی وائرس کے


باعث ہلاک ہوئے ہیں۔ چین کے کل کیسز میں سے 50 ہزار کا تعلق ووہان سے ہے جب کہ 3 ہزار 869 ہلاکتیں بھی یہیں رپورٹ ہوئی ہیں۔23 جنوری کو ووہان میں کیسز میں اضافے کے بعد وائرس کو مزید پھیلنے سے روکنے کیلئے چینی حکام نے ایک کروڑ 10 لاکھ سے زائد آبادی والے شہر میں مکمل لاک ڈاؤن کردیا تھا اور کیسز کم ہونے پر 10 ہفتوں بعد لاک ڈاؤن میں نرمی کی گئی تھی۔ رواں ماہ کے آغاز میں تمام تعلیمی ادارے کھول دیے گئے تھے اور اب تقریباً 8 ماہ کی معطلی کے بعد ووہان سے بین الاقوامی پروازوں کا آغاز بھی کردیا گیا ۔جنوبی کوریا سے پہلی پرواز 60 مسافروں کو لے کر ووہان کے ائیر پورٹ پر لینڈ کرگئی ہے،حکام کے مطابق ووہان میں داخلے کے لیے مسافروں کو پرواز سے قبل 72 گھنٹے کے اندر کورونا کا ٹیسٹ کرانا لازمی ہے۔چین کی جانب سے احتیاطاً بہت سے ممالک کے مسافروں پر چین میں داخلے پر پابندی ہے اور جنہیں اجازت ہے انہیں بھی 14 دن کا قرنطینہ مکمل کرنا ہوتا ہے۔چین کی سول ایوی ایشن کے مطابق بیجنگ اور شنگھائی میں بھی براہ راست بین الاقوامی پروازوں کی اجازت ہے تاہم اس کے لیے ویزہ اور ہیلتھ سے متعلق اقدامات پر سختی سے عمل کرایا جارہا ہے۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

ڈائیلاگ اور صرف ڈائیلاگ

سینٹ ہونو رینا  فرانس کے علاقے نارمنڈی سے تعلق رکھتی تھیں‘ یہ کیتھولک نن تھیں‘ کنواری تھیں‘ نارمنڈی میںکیتھولک کا قتل عام شروع ہوا تو سینٹ ہونورینا کو بھی مار کر نعش دریائے سین میں پھینک دی گئی‘ یہ نعش بہتی بہتی کون فلوینس  پہنچ گئی‘ کون فلوینس پیرس سے 24 کلومیٹر کے فاصلے پر چھوٹا سا گاﺅں ....مزید پڑھئے‎

سینٹ ہونو رینا  فرانس کے علاقے نارمنڈی سے تعلق رکھتی تھیں‘ یہ کیتھولک نن تھیں‘ کنواری تھیں‘ نارمنڈی میںکیتھولک کا قتل عام شروع ہوا تو سینٹ ہونورینا کو بھی مار کر نعش دریائے سین میں پھینک دی گئی‘ یہ نعش بہتی بہتی کون فلوینس  پہنچ گئی‘ کون فلوینس پیرس سے 24 کلومیٹر کے فاصلے پر چھوٹا سا گاﺅں ....مزید پڑھئے‎