ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

اسرائیل سے ڈیل ایران کی وجہ سے نہیں کی،متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ نے حقیقت بیان کرتے ہوئے ترکی کو دوہرے معیار کا حامل قرار دیدیا

datetime 16  اگست‬‮  2020 |

ابوظہبی (این این آئی) متحدہ عرب امارات نے کہا ہے کہ اس نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کا فیصلہ ایران کا مقابلہ کرنے کے لیے نہیں کیا ہے۔اس نے ترک صدر رجب طیب ایردوآن کی امن ڈیل پر تنقید مسترد کردی ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق متحدہ عرب امارات کے وزیر مملکت برائے امور خارجہ انور قرقاش نے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا کہ یہ ڈیل ایران کے بارے میں نہیں،یہ یو اے ای، اسرائیل اور امریکا سے متعلق ہے۔

انھوں نے واضح کیا کہ اس کا کسی بھی طرح یہ مطلب نہیں کہ اس کے ذریعے ایران کے خلاف کسی طرح کی کوئی گروپ بندی کی جارہی ہے۔ٹرمپ انتظامیہ اور اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے اس سمجھوتے سے متعلق یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ وہ اس کے ذریعے ایران کا مقابلہ کرنا چاہتے ہیں اور دنیا میں اس کو مزید تنہائی کا شکار کرنا چاہتے ہیں لیکن انور قرقاش نے اپنے ملک کے بارے میں ایسے کسی تاثر کی نفی کی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ یو اے ای اپنے ہمسایہ ملک کو اشتعال نہیں دلانا چاہتا ہے۔انھوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ ہمارے تعلقات بہت ہی پیچیدہ ہیں۔ہمارے اپنے کچھ تحفظات ہیں مگر اس کے باوجود ہم محسوس کرتے ہیں کہ اس کے ساتھ متنازع امور کو سفارت کاری کے ذریعے طے کیا جانا چاہیے اور کشیدگی نہیں ہونی چاہیے۔اماراتی وزیر خارجہ نے ترک صدر رجب طیب ایردوآن کے یو اے ای سے سفارتی تعلقات معطل کرنے کے دھمکی آمیز بیان کو بھی مسترد کردیا ہے اور اس کو دہرے معیار کا حامل قرار دیا ہے کیونکہ ان کے بہ قول ترکی نے توخود اسرائیل کے ساتھ تجارتی اور سیاسی تعلقات قائم کررکھے ہیں۔انور قرقاش کا کہنا تھا کہ ترکی میں ہر سال پانچ لاکھ سے زیادہ اسرائیلی سیاح آتے ہیں۔دونوں ملکوں کے درمیان دوطرفہ سالانہ تجارت کا حجم دو ارب ڈالر ہے۔اسرائیل میں ترکی کا سفارت خانہ کھلا ہوا ہے۔اس صورت حال میں،میں تو خود سے یہ سوال کرتا ہوں کہ کیا یہ اصولی مقف ہے یا نہیں۔انور قرقاش کا کہنا تھا کہ ہمیں فلسطینی علاقوں کو صہیونی ریاست میں ضم کرنے کے معاملے پر بہت تشویش لاحق تھی۔اس تصوراتی اعلامیے کے ذریعے ہم کم سے کم مذاکرات کو جگہ دینے کے تو قابل ہوئے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…