تعلقات معمول پر لانا ناگزیر ہو چکا،امریکہ نے سعودی اسرائیل تعلقات بہتر بنانے کی کوششیں تیز کر دیں،اس کے پیچھے کیا گھناؤنے مقاصد ہیں؟

  ہفتہ‬‮ 15 اگست‬‮ 2020  |  19:07

واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) ٹرمپ کے سینئر ایڈوائزر اور داماد نے امریکی ٹی وی کو انٹرویو کے دوران بتایا کہ متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان ہونے والا معاہدہ گزشتہ چھبیس سالوں میں تاریخی اعتبار سے سب سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ ٹرمپ کے داماد جیریڈ کشنر نے کہا کہ سعودی عرب مسلم ممالک میں رائے عامہ ہموار کرنے کا ذریعہ مانا جاتا ہے اور کسی ایسے ملک کے ساتھ تعلقات کو خراب کرنے کےبارے میں سوچا بھی نہیں جا سکتا۔ جیریڈ کشنر نے کہاکہ صدر ٹرمپ نے سعودی عرب کے اپنے پہلے دورہ کے دوران ولی عہد محمد بن


سلمان کو اعتماد میں لیا اور ان کو امریکی پالیسیوں کے لیے آمادہ کیا۔انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ کے دورے کے بعد سعودی عرب کے تعاون سے ایران کے معاملے پر امریکہ نے ٹھوس اقدامات اٹھائے، جیریڈ نے کہاکہ سب سے اہم جو کام ہوا وہ یہ تھا کہ سعودی عرب جو کہ مسلمانوں کے مقامات مقدسہ کے ساتھ مسلم دنیا کا لیڈر مانا جاتا ہے اسے شدت پسندی کو ختم کرنے کے لیے ایسی جدت کی طرف راغب کیا گیا جس کے بعد مسلمان یہ سوچیں گے کہ اگر ان کا لیڈر اس پر اعتراض نہیں کر رہا تو اس میں کوئی بری بات نہیں۔امریکہ کے کہنے پر سعودی عرب نے اپنے ملک میں جدت لانے کے لئے کئی اقدامات کئے، انہوں نے کہا کہ کب تک ماضی کے مسائل میں الجھ کر موجودہ دنیا کے ساتھ تعلقات کو خراب کر کے رکھا جا سکتا ہے اب ضرورت اس بات کی ہے کہ سعودی عرب کے بھی اسرائیل کے ساتھ بہتر تعلقات ہوں اس سے سعودی عرب کے عوام کو فائدہ ہو گا، انہوں نے کہا کہ اگر سعودی عرب ہمارا ساتھ دے تو ہم بہت زیادہ کامیابیاں حاصل کریں گے جو تاریخی اعتبار سے بہت اہمیت رکھتی ہوں گی۔غرض امریکہ اب سعودی عرب کو اسرائیل سے تعلقات پر راضی کرنا چاہتا ہے تاکہ تمام مسلم ممالک سعودی عرب کی پیروی کرتے ہوئے اسرائیل کو تسلیم کر لیں۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

قاسم پاشا کی گلیوں میں

آیا صوفیہ کے سامنے دھوپ پڑی تھی‘ آنکھیں چندھیا رہی تھیں‘ میں نے دھوپ سے بچنے کے لیے سر پر ٹوپی رکھ لی‘ آنکھیں ٹوپی کے چھجے کے نیچے آ گئیں اور اس کے ساتھ ہی ماحول بدل گیا‘ آسمان پر باسفورس کے سفید بگلے تیر رہے تھے‘ دائیں بائیں سیکڑوں سیاح تھے اور ان سیاحوں کے درمیان ....مزید پڑھئے‎

آیا صوفیہ کے سامنے دھوپ پڑی تھی‘ آنکھیں چندھیا رہی تھیں‘ میں نے دھوپ سے بچنے کے لیے سر پر ٹوپی رکھ لی‘ آنکھیں ٹوپی کے چھجے کے نیچے آ گئیں اور اس کے ساتھ ہی ماحول بدل گیا‘ آسمان پر باسفورس کے سفید بگلے تیر رہے تھے‘ دائیں بائیں سیکڑوں سیاح تھے اور ان سیاحوں کے درمیان ....مزید پڑھئے‎