بدھ‬‮ ، 25 مارچ‬‮ 2026 

چوری کے واقعے پر عدالت کا انصاف و عدل پر مبنی فیصلہ،جج کے الفاظ نے حاضرین اور چوری کے الزام میں پکڑے گئے لڑکے کو بھی زار و قطار رُلا دیا

datetime 14  جولائی  2020 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) کچھ عرصہ قبل بیرون ملک ایک لڑکا سٹور سے چوری کرتا ہوا پکڑا گیا، گارڈ نے پکڑ لیا اس نے بھاگنے کی کوشش کی اور اسی کوشش اور مزاحمت میں سٹور کا ایک شیلف بھی ٹوٹ گیا، عدالت لگی جج نے لڑکے پر لگائی گئی فرد جرم سنی اور اس سے پوچھا تم نے واقعی کچھ چرایا تھا، جس پر لڑکے نے چوری کا اعتراف کرتے ہوئے مختصر جواب دیا، بریڈ اور پنیر کا پیکٹ۔ جج نے پوچھا کیوں؟

لڑکے نے کہا مجھے ضرورت تھی، جس پر جج نے کہا کہ خرید لیتے، لڑکے نے جواب دیا پیسے نہیں تھے۔ جج نے کہا گھر والوں سے لے لیتے، لڑکے نے جواب دیا گھر پر صرف ماں ہے جو بیمار اور بے روزگار ہے۔ اپنی ماں کے لئے ہی بریڈ اور پنیرچرائی تھی۔جج نے پوچھا تم کوئی کام نہیں کرتے، پندرہ سالہ لڑکے نے جواب دیا ایک کار واش میں کام کرتا تھا۔ ماں کی دیکھ بھال کے لئے ایک دن کی چھٹی کی تو نکال دیا گیا۔ اس پر جج نے کہا کہ تم کسی سے مدد مانگ لیتے، لڑکے نے جواب دیا صبح سے مانگ رہا تھا کسی نے مدد نہیں کی۔ جرح ختم ہو گئی اور جج نے اپنا فیصلہ سنانا شروع کر دیا۔ جج نے کہا کہ چوری اور خصوصاً بریڈ کی چوری بہت ہولناک جرم ہے اور اس جرم کے ذمہ دار ہم سب ہیں، مجھ سمیت عدالت میں موجود ہر شخص اس چوری کا مجرم ہے۔جج نے فیصلے میں کہا کہ میں یہاں موجود ہر فرد اور خود پر 10 ڈالر جرمانہ عائد کرتا ہوں۔ کوئی شخص دس ڈالر ادا کئے بغیر عدالت سے باہر نہیں جاسکتا۔جج نے یہ الفاظ کہے اور اپنی جیب سے دس ڈالر نکال کر میز پر رکھ دیے۔جج نے اپنے فیصلے میں مزید کہا کہ سٹور انتظامیہ پرہزار ڈالر جرمانہ کرتا ہوں کہ اس نے ایک بھوکے بچے سے غیر انسانی سلوک کرتے ہوئے، اسے پولیس کے حوالے کیا۔ اگر 24 گھنٹے میں جرمانہ جمع نہ کرایا گیا تو عدالت سٹور سیل کرنے کا حکم دے گی۔فیصلے کے آخر میں کہا گیا کہ سٹور انتظامیہ اور حاضرین پر جرمانے کی رقم لڑکے

کو ادا کرتے ہوئے، عدالت اس سے معافی مانگتی ہے۔عدالت میں موجود حاضرین کی آنکھوں میں فیصلہ سننے کے بعد آنسو تھے ہی لیکن اس پندرہ سالہ لڑکے کی رونے سے ہچکیاں بندھ گئیں اور اس موقع پر وہ بار بار جج کو دیکھ رہا تھا۔ یہ واقعہ ثابت کرتا ہے کہ کفر کے معاشرے نے اسلامی عدل و انصاف کو اپنے اوپر لاگو کیا ہوا ہے جبکہ ہمارے ملک میں پولیس ہاتھ ڈالتی ہے تو غریب کاغذ چننے والے پر، غریب دیہاڑی دار مزدور پر ان کا قصور نہ بھی ہو تو انہیں قصور وار ٹھہرا دیا جاتا ہے اور امیر بے شک اس ملک کو لوٹ کر کھا جائے اس کو سلیوٹ کیا جاتا ہے۔



کالم



مذہب کی جنگ(آخری حصہ)


اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…