ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

فرانس کے ساحلی شہر سے جنگ عظیم دوم کا 5 سو کلو وزنی بم برآمد، علاقہ مکینوں سے خالی کرا لیا گیا

datetime 10  جولائی  2020 |

پیرس( آن لائن )فرانس کے ساحلی شہر میں جنگ عظیم دوم کا ایک بم برآمد ہونے کی وجہ سے سیکٹروں لوگوں کو اپنے گھروں سے منتقل ہونا پڑا۔ بم 500 کلو وزنی تھا جسے ماہرین نے ناکارہ بنایا۔مقامی حکومت نے ایک ٹوئٹ میں بتایا کہ مذکورہ بم جنوب مغربی ساحلی شہر سینٹ نیزائر میں ایک عمارت کی تعمیراتی سائٹ پر دریافت ہوا جسے ناکارہ بنا دیا گیا ہے۔حکام کا مزید کہنا تھا کہ ’تمام کارروائی منصوبہ بندی کے مطابق ہوئی

اور بم کو تباہ کرنے کے نتیجے میں ایک چھوٹا سا دھماکا ہوا‘۔رپورٹ کے مطابق 4 فٹ (130 سینٹی میٹر) طویل بم برطانوی فضائی افواج نے شہری علاقے پر گرایا تھا اس لیے ٹیم کو اس کارروائی سے قبل 400 میٹر کا علاقہ خالی کروانا پڑا۔اس سلسلے میں 23 سو مکینوں سے علاقہ خالی کروالیا گیا اور ماہرین نے بم کو کاٹ کر تباہ کرنے سے پہلے اس کے ارد گرد ایک گہرا گڑھا کھودا۔خیال رہے کہ سینٹ نیزائر جنگ عظیم دوم کے دوران ایک انتہائی اہم بندرگاہ تھی اور نازی افواج نے اٹلانٹک کے لیے اپنے جنگی بحری جہاز یہاں لنگر انداز کیے ہوئے تھے۔برطانوی افواج نے 1942 میں اس بندرگاہ پر بمباری کی تھی اور باقی جنگ کے دوران یہ علاقہ کارروائی سے الگ ہوگیا تھا۔خیال رہے کہ 70 سال سے زائد کا عرصہ گزر جانے کے باوجود اب تک جنگ عظیم دوم کی باقیات برا?مد ہوتی رہتی ہیں ایسا کچھ جنگی ساز و سامان 2018 جاپان کے دارالحکومت ٹوکیو میں ایک الیمنٹری اسکول سے ملا تھا جس میں بندوقیں، تلواریں اور دستی بم شامل تھے۔ فرانس کے ساحلی شہر میں جنگ عظیم دوم کا ایک بم برآمد ہونے کی وجہ سے سیکٹروں لوگوں کو اپنے گھروں سے منتقل ہونا پڑا۔ بم 500 کلو وزنی تھا جسے ماہرین نے ناکارہ بنایا۔مقامی حکومت نے ایک ٹوئٹ میں بتایا کہ مذکورہ بم جنوب مغربی ساحلی شہر سینٹ نیزائر میں ایک عمارت کی تعمیراتی سائٹ پر دریافت ہوا جسے ناکارہ بنا دیا گیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…