ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

ان 600 طالبان قیدیوں کو رہا نہیں کر سکتے،افغان حکومت نے انکار کی حیرت انگیز وجہ بتا دی

datetime 10  جولائی  2020 |

کابل(آن لا ئن)ا فغان حکام کا کہنا ہے کہ وہ امن معاہدے کی شرائط کے تحت قیدیوں کے تبادلے کے پابند ہونے کے باوجود انتہائی خطرناک سمجھے جانے والے سینکڑوں طالبان قیدیوں کو رہا نہیں کریں گے۔حکام کے مطابق تشدد نے جنگ زدہ ملک کو اپنی گرفت میں لے رکھا ہے غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق امریکہ اور طالبان کے درمیان ہونے والے امن معاہدے کے تحت 5 ہزار طالبان قیدیوں کو تبادلہ کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا

جس کے بدلے میں طالبان ایک ہزار افغان سیکیورٹی فورسز کے قیدیوں کو رہا کریں گے۔تاہم قومی سلامتی کونسل (این ایس سی) کے ترجمان جاوید فیصل نے کہا کہ جن 600 طالبان قیدیوں کو رہا کرنے کا کہا گیا ہے ان کے خلاف ابھی بھی ‘سنگین فوجداری مقدمات’ چل رہے ہیں۔ایک اور سرکاری عہدیدار نے بتایا کہ ان میں قتل، ہائی وے ڈکیتی اور یہاں تک کہ بچہ بازی کے ملزمان کے ساتھ ساتھ سینکڑوں غیر ملکی جنگجو شامل ہیں۔عہدیدار نے مزید بتایا کہ ‘انہیں رہا کرنا بہت خطرناک ہے’۔ جبکہ طالبان نے حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ قیدیوں کے خلاف جھوٹے فوجداری مقدمات تشکیل دے رہی ہے۔طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ ‘اگر وہ اس سلسلے میں مزید مسائل پیدا کرتے رہے تو پھر اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ نہیں چاہتے ہیں کہ معاملات بہتر طریقے سے حل ہوں’۔تاہم قومی سلامتی کونسل کے ترجمان جاوید فیصل نے زور دیا کہ حکومت مذاکرات کے لیے پرعزم ہے۔ ا فغان حکام کا کہنا ہے کہ وہ امن معاہدے کی شرائط کے تحت قیدیوں کے تبادلے کے پابند ہونے کے باوجود انتہائی خطرناک سمجھے جانے والے سینکڑوں طالبان قیدیوں کو رہا نہیں کریں گے۔حکام کے مطابق تشدد نے جنگ زدہ ملک کو اپنی گرفت میں لے رکھا ہے غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق امریکہ اور طالبان کے درمیان ہونے والے امن معاہدے کے تحت 5 ہزار طالبان قیدیوں کو تبادلہ کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا جس کے بدلے میں طالبان ایک ہزار افغان سیکیورٹی فورسز کے قیدیوں کو رہا کریں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…