ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

کرونا پر کنٹرول کیلئےانفرادی سطح پر ذمہ داریاں پوری کرنا ہوں گی ڈیٹا جھوٹ نہیں بول رہا،زمینی حقائق نظرانداز نہ کریں:عالمی ادارہ صحت نے خبردار کردیا

datetime 4  جولائی  2020 |

جنیوا (آن لائن)عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر برائے ایمرجنسی ڈاکٹر مائیکل رائن نے حکومتوں پہ زور دیا ہے کہ وہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے میں اپنی ذمہ داریاں ادا کریں۔ انہوں نے دنیا بھر کے لوگوں سے بھی کہا ہے کہ وہ یقین کریں کہ کوویڈ 19 کے حوالے سے موجود ڈیٹا جھوٹ نہیں بول رہا ہے، نہ ہی زمینی حقائق غلط بیانی کر رہے ہیں لہذا اسے نظرانداز نہ کریں۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر ڈاکٹر مائیکل رائن نے صحافیوں سے بات چیت کے دوران دنیا کی مختلف حکومتوں پہ زور دیا کہ وہ حقائق کا درست ادراک کریں اورمہلک وبا پر قابو پائیں۔ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ کئی ممالک کوویڈ 19 کے حوالے سے سامنے آنے والے ڈیٹا کو نظر انداز کررہے ہیں جو نہایت خطرناک ہے۔ڈاکٹر مائیکل رائن نے واضح طور پر کہا کہ ملکی معیشت کی بحالی کے حوالے سے اقدامات کا جواز بھی یکسر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا ہے لیکن ان کا استفسار تھا کہ کوویڈ 19 کو کیسے پس پشت ڈال سکتے ہیں؟انہوں نے صاف الفاظ میں کہا کہ کوویڈ 19 خود بخود کسی جادوئی طریقے سے ختم ہو جائے ۔ گا تو ایسا بالکل بھی نہیں ہے۔عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر کا مشورہ تھا کہ جن علاقوں میں کوویڈ 19 کا پھیلاؤ نسبتاً کم ہے وہاں لاک ڈاؤن ختم کرکے سماجی فاصلے کو یقینی بناتے ہوئے مہلک وبا پر قابو پانے کی کوشش کریں لیکن جہاں پھیلاؤ زیادہ ہے وہاں سخت لاک ڈاؤن ازحد ضروری ہے۔ڈاکٹر مائیکل رائن کا کہنا تھا کہ اگر ممالک نے درست اندازہ نہ لگایا اور لاک ڈاؤن ختم کرنے سے یہ مہلک وبا پھیلی اور صحت کا نظام زمیں بوس ہو گیا تو اموات میں اضافہ ہو جائے گا۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ بیشک حکومتیں کتنے بھی اقدامات اٹھا لیں لیکن جب تک ہر شخص ذاتی حیثیت میں اس حوالے سے اپنی ذمہ داری ادا نہیں کرے گا اس وقت تک اس پر بہت زیادہ قابو پانا نا ممکن ہو گا۔ڈاکٹر مائیکل رائن نے اس ضمن میں باقاعدہ مثال دی کہ جیسے سڑک پار کرتے وقت خود فیصلہ کرتے ہیں، فلائٹ لینے یا آپریشن کرانے اور یا نہ کرانے کا فیصلہ خود کرتے ہیں بالکل اسی طرح کوویڈ 19 میں بھی ہر شخص اپنی ذمہ داری محسوس کرے اور اسے لازمی ادا بھی کرے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…