ہفتہ‬‮ ، 14 مارچ‬‮ 2026 

ہزاروں گائوں جلانے کے بعد برما میں مسلمانوں کے خلاف دوبارہ آپریشن شروع

datetime 30  جون‬‮  2020 |

رخائن( آن لائن ) میانمار(برما) کی فوج نے مغربی ریاست رخائن میں مسلمانوں کے خلاف نئے آپریشن کی تیاریاں شروع کردی ہیں جس کے بعد ہزاروں افراد گھر بار چھوڑ کر علاقے سے ہجرت کرگئے ہیں . برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق انسانی حقوق کی تنظیموں اور ایک رکن پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ مقامی انتظامیہ کی جانب سے فوجی آپریشن کی تنبینہ کے بعد رخائن سے ہزاروں افراد چلے گئے ہیں

دوسری جانب حکومتی ترجمان کا کہنا تھا کہ حکم سرحدی امور کے عہدیداروں کی جانب سے جاری کیا گیا تھا جو مقامی انتظامیہ کے ذریعے پہنچایا گیا تاہم یہ حکم چند گائوں کے لیے تھا.حکومتی وزیر کرنل من تھان نے شہریوں کو علاقہ چھوڑنے کے لیے جاری کیے خط کی تصدیق کی خط ریتھیڈونگ کے ایڈمنسٹریٹر آنونگ مائنٹ تھین کے دستخط سے جاری ہوا جس میں انہوں گا?ں کے سربراہوں سے کہا کہ کیوکٹان اور قریبی علاقوں میں آپریشن کی تیاری کی گئی ہے جہاں انتہاپسندوں کی موجودگی کے شبہات ہیں. مقامی انتظامیہ کی جانب سے جاری خط میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ یہ احکامات کس نے جاری کیے ہیںرخائن کے سرحدی امور اور سیکیورٹی کے وزیر من تھن نے کہا کہ یہ احکامات سرحدی امور کی وزارت سے جاری ہوئے ہیں اور یہ ان وزارتوں میں سے ایک ہے جو فوج کے پاس ہیں.ایڈمنسٹریٹر نے خط میں کہا ہے کہ مذکورہ گا?ں میں فوج کی جانب سے کلیئرنس آپریشن کیا جائے گا رخائن میں موجود مبینہ انتہاپسند اراکان آرمی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اس کارروائی کے دوران اراکان آرمی کے دہشت گردوں فائرنگ کریں گے اس لیے گاؤں میں کوئی موجود نہ ہواور عارضی طور پر وہاں سے دوسری جگہ منتقل ہوجائیں. من تھن نے کہا کہ ایڈمنسٹریٹر نے ان احکامات کو غلط سمجھا اور یہ آپریشن بتائے گئے درجنوں گائوں میں نہیں بلکہ چند گائوں میں ہوگا انہوں نے کہاکہ آپریشن ایک ہفتے تک جاری رہ سکتا ہے

اور جو باقی رہ جائیں گے وہ اراکان آرمی کے ہمدرد ہوں گے.حکومتی ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ حکومت نے فوج کو ہدایت کی ہے کہ وہ کلیئرنس کی اصطلاح استعمال نہ کرے خیال رہے کہ 2017 میں فوج کی زیر قیادت کیے گئے آپریشن کے بعد تقریباً ساڑھے 7 لاکھ روہنگیا مسلمانوں نے میانمار سے بھاگ کر بنگلہ دیش میں سرحد پر واقع کیمپوں میں پناہ لی تھی. اقوام متحدہ نے اس معاملے پر اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ یہ فوجی کارروائی روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی کی غرض سے شروع کی گئی تھی اقوام متحدہ سمیت دیگر عالمی طاقتوں نے میانمار کے اس عمل کو نسل کشی قرار دیا تھا اور حکومت میں شراکتی فوج کو اس میں ملوث قرار دیا گیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مذہبی جنگ(دوسرا حصہ)


بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہبی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…