جمعرات‬‮ ، 29 جنوری‬‮ 2026 

’’کروناوائرس، اگست میں اسپتالوں پر دباؤ عروج پر ‘‘ جولائی میںمریضوں کی تعداد 4لاکھ تک جبکہ اگست میں تعداد کتنے لاکھوں  تک پہنچ جائے گی؟عالمی ماہرین کی خوفناک پیش گوئی، انتباہ جاری

datetime 22  جون‬‮  2020 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)امریکی یونیورسٹی میساچوسٹس انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے ایک ماڈل کے مطابق اگر حکومت کی جانب سے لاک ڈاؤن کا موجود ہ سلسلہ جاری رہا تو پاکستان میں 19 جولائی تک کورونا مریضوں کی تعداد چار لاکھ 73 ہزار اور 19 اگست تک 10 لاکھ 86 ہزار سے زائد ہوگی، جبکہ مرنےوالوں کی تعداد 19 جولائی تک 9 ہزار 800 کےقریب اور 19 اگست تک یہ تعداد 22 ہزار کے

قریب پہنچنے کا خدشہ ہے۔کورونا کے مریضوں کے حوالے سے پیشگوئی سے متعلق ایم آئی ٹی سے تعلق رکھنےوالے ایک آزاد تحقیق دان یو یانگ گو (YOUYANG GU) کے ماڈل اور اعداد و شمار بھی حقیقت سے قریب ترقرار دیے جاتے ہیں اور امریکی حکومت بھی فیصلوں میں ان اعداد و شمار کا خیال رکھتی ہے۔اس ماڈل کے مطابق اگر جولائی کے اختتام تک حکومت نے پابندیوں پر سختی سے عمل کروایا، ساٹھ فیصد تک آبادی سماجی دوری کے اصولوں پر عمل کرنے لگے اور کورونا ٹیسٹنگ کی صلاحیت 10 لاکھ میں سے 25 ، 35 فیصد تک کردی گئی تو 19 جولائی تک پاکستان میں کیسز کی تعداد 4 لاکھ 53 ہزار سے زائد اور 19 اگست تک 9 لاکھ 10 ہزار سے زائد ہوگی، جبکہ مرنےوالوں کی تعداد 19 جولائی تک ساڑے 8 ہزار سے زائد اور 19 اگست تک 16 ہزار سے زائد ہوسکتی ہے۔امپیریئل کالج آف لندن کے بنائے گئے ماڈل کےتحت 19 جولائی تک پاکستان میں کیسز کی تعداد ساڑھے چار لاکھ سے زائد اور انیس اگست تک 13 لاکھ ساٹھ ہزار سے زائد ہوسکتی ہے، جبکہ 19 جولائی تک مرنےوالوں کی تعداد ساڑھے 8 ہزار سے زائد اور 19 اگست تک یہ تعداد 16 ہزار سے زائد ہوسکتی ہے۔کورونا مریضوں کی ممکنہ تعداد کے حوالے سے پاکستان کے تین محقیقین نے بھی ایک ماڈل بنایا ہے، سو روزہ ماڈل کے مطابق اگر ملک میں احتیاط نہیں کی گئی تو اگست کے اختتام تک بغیر علامات والے کورونا مریضوں کی تعداد ایک کروڑ 30 لاکھ سے زائد، ہلکی علامات والے مریضوں کی تعداد تین کروڑ سے زائد، کورونا وائرس سے شدید متاثر ہونےوالوں کی تعداد 60 لاکھ اور اموات کی تعداد 7 لاکھ 60 ہزار کےقریب ہوسکتی ہے، تاہم تحقیق میں کہا گیا ہے کہ اگرحکومت نےسختی سے ایس او پیز پر عمل کروایا تو یہ اعداد و شمار 30 فیصد کم ہوسکتے ہیں۔

موضوعات:



کالم



قم میں آدھا دن


ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…