اتوار‬‮ ، 27 ستمبر‬‮ 2026 

حکومت اینٹی باڈیز ٹیسٹ بھی شروع کرے،ڈاکٹر طاہر شمسی  نے فائدہ بھی بتا دیا

datetime 6  مئی‬‮  2020 |

کراچی(این این آئی)بلڈ ڈیزیز کے اسپیشلسٹ ڈاکٹر طاہر شمسی نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ کرونا وائرس کے پی سی آر ٹیسٹ پر لوڈ کم کرنے کیلئے اینٹی باڈیز ٹیسٹ بھی شروع کیے جائیں۔ایک انٹرویومیں ڈاکٹر طاہر شمسی نے کرونا وائرس کی تشخیص کیلئے ایک اہم ٹیسٹ سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ اینٹی باڈیز ٹیسٹ کی مدد سے کرونا سے صحت یاب افراد کی پہچان ہو سکتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ وفاقی حکومت چاہے تو ایس او پیز کے تحت معیشت کا پہیا چل سکتا ہے، وفاق کا محکمہ صحت مہربانی کرے، اینٹی باڈی کا ٹیسٹ دستیاب ہونا ضروری ہے، شہری اپنے اپنے ٹیسٹ کروا کے اپنے اپنے کاموں پر جا سکتے ہیں۔ڈاکٹر طاہر شمسی نے کہا کہ کرونا وائرس کے خلاف بننے والی آئی جی جی اینٹی باڈیز کیلئے آئی جی ایم کے استعمال کی اجازت تاحال نہیں دی گئی ہے، نہ ہی ٹیسٹس کی کٹس وفاقی حکومت نے فراہم کی ہیں، اس ٹیسٹ کے ذریعے کرونا وائرس کے پی سی آر ٹیسٹ پر لوڈ کم ہو جائے گااور بہت سے ایسے لوگوں کی بھی نشان دہی ہوگی جو کرونا سے متاثر ہوئے اور خود بخود صحت یاب ہو گئے کیوں کہ متعدد افراد میں کرونا کی علامات ظاہر نہیں ہوتیں۔ماہر امراض خون کے مطابق اینٹی باڈیز ٹیسٹ ان تمام لوگوں کی نشان دہی کرے گا جو کرونا سے بغیر علامات کے متاثر ہوئے ہیں، ٹیسٹ میں ان لوگوں کے خون میں اینٹی باڈیز کی نشان دہی سے معلوم ہوگا کہ انھیں کرونا لاحق ہوا تھا۔ انھوں نے این ڈی ایم اے اور وفاقی صحت کے اداروں سے اپیل کی کہ اس معاملے پر بھی توجہ دی جائے۔ڈاکٹر شمسی نے کہا کہ تمام وفاقی صحت کے شعبہ جات سے درخواست ہے کہ اس ٹیسٹ کے لیے اجازت نامہ جاری کریں، کیوں کہ وفاقی حکومت کی اجازت کے بغیر کوئی صوبائی حکومت ملک میں ٹیسٹنگ کے اجازت نامے نہیں دے سکتی۔‎

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…