اتوار‬‮ ، 27 ستمبر‬‮ 2026 

بھارت میں مسلمانوں پر آر ایس ایس کے مظالم ناقابل برداشت،بھارتی ڈاکٹرز پروفیسرز اور دوسرے لوگ بھی ہمارے درمیان بیٹھ کر سوشل میڈیا پر نفرتیں پھیلا رہے ہیں،معروف کویتی صحافی نے بھارتیوں کو عرب ممالک سے نکالنے کا مطالبہ کردیا

datetime 23  اپریل‬‮  2020 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)معروف کویتی صحافی محمد احمد الملا نے بھارت میں مسلمانوں پر ہونے والے ظلم کے خلاف آواز بلند کر دی ،میڈیا رپورٹس کے مطابق محمد احمد الملا کا کہنا ہے کہ دنیا کا ہر مسلمان ہمارا بھائی ہے، اس کا ہم پر حق ہے۔ احمد الملا نے حدیث مبارکہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ارشاد نبویﷺ ہے کہ ’’مسلمان، مسلمان کا بھائی ہے‘‘۔

سوشل میڈیا پر وائر ل ویڈیو پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ انڈیا میں آر ایس ایس نامی تنظیم مسلمانوں پر جو ظلم ڈھا رہی ہے اور مسلمانوں کی جو توہین کر رہی ہے وہ ناقابل برداشت ہے۔کویتی صحافی محمد احمد الملا نے بھارتی مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کی حالیہ لہر پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ان مظالم کا آغاز اس جھوٹ سے ہوا کہ بھارت میں کورونا وائرس مسلمانوں کی ذریعے پھیلا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تذلیل صرف چند ہندوستانی مسلمانوں تک محدود نہیں رہی بلکہ بھارتی اراکین پارلیمنٹ نے بھی تمام عرب ماؤں کو گالیاں دی ہیں۔صحافی کا کہنا تھا کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ معاملہ کورونا وائرس کا نہیں بلکہ متعصبانہ نسل پرستی کا ہے۔ محمد احمد الملا کا کہنا تھا کہ جہاں تک میں نے دیکھا ہے ایسا کرنے والے ہندوستان کے اندر تک نہیں بلکہ یہاں عرب میں ہمارے درمیان بھی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عرب ممالک میں رہنے والے بھارتی ڈاکٹرز، پروفیسرز اور دوسرے لوگ بھی سوشل میڈیا کے ذریعے یہ نفرت پھیلا رہے ہیں۔کویتی صحافی نے امت مسلمہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہم پر واجب ہے کہ ہم پوری قوت سے اس نفرت کا مقابلہ کریں اور ایسے لوگوں کو نکال باہر کریں جو ہماری ہی سرزمین سے ہم پر حملہ آور ہیں۔ صحافی نے اپنے پیغام کے اختتام پر کہا کہ تمام مسلم ممالک کو بھارتی مسلمانوں کا ساتھ دینا چاہیے، مومن، مومن کے لیے عمارت میں لگی اینٹ کی طرح ہوتا ہے جو ایک دوسرے کی طاقت کا باعث ہوتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…