ہفتہ‬‮ ، 15 اگست‬‮ 2026 

چین نے کرونا وائرس کی ا پنی ویکسین تیار کر لی

datetime 30  مارچ‬‮  2020 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) چین نے کرونا وائرس کے خلاف بنائی جانے والی اپنی پہلی ویکسین کے کلینکل تجربات کی اجازت دے دی ہے۔چینی سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق ملک بھر میں بڑھتے ہوئے کرونا وائرس کی تعداد کے بعد ان پر قابو پانے کے لیے مہلک بیماری کے خلاف بنائی جانے والی پہلی ویکسین کے کلینکل تجربات کی اجازت دے دی ہے۔ دنیا نیوز کی رپورٹ کے مطابق چینی خبر رساں ادارے نے بتایا ہےکہ یہ ویکسین چین کی اکیڈمی آف ملٹری میڈیکل سائنس میں تیار کی گئی ہے۔

اس وقت دنیا کے متعدد ممالک میں کرونا وائرس کے خلاف ادویات تیار کرنے کی کوششیں جاری ہیں تاہم ابھی تک اس حوالے سے کوئی کامیاب ویکسین تیار نہیں کی جا سکی۔واضح رہے کہ گزشتہ روز چین سے پھیلنے والے کرونا وائرس سے ہونے والی بیماری کے حوالے سے پہلی بار امریکا میں ویکسین کی انسانوں پر آزمائش کا آغاز ہو گیا ہے۔غیر ملکی خبر رساں ادارے ’اے پی‘ کے مطابق امریکا میں کرونا وائرس ویکسین کی آزمائش 16 مارچ کو انسانوں پر شروع ہوئی اور یہ تاریخ ساز ہے کیونکہ اتنی تیزی سے کسی ویکسین کا کلینیکل ٹرائل شروع نہیں ہوتا کیونکہ وائرس کا جینیاتی ویکسنس محض 2 ماہ قبل ہی تیار کیا گیا تھا۔تاہم ویکسین کی عام دستیابی میں ابھی کافی وقت درکار ہو گا، فی الحال اس کی آزمائش کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ انسانوں کے لیے محفوظ ہے، اگر محفوظ ثابت ہوئی تو مستقبل قریب میں زیادہ افراد پر اس کا ٹیسٹ کرکے تعین کیا جائے گا کہ کس حد تک انفیکشن کی روک تھام کے لیے موثر ہے۔خبر رساں ادارے کے مطابق امریکا کے نیشنل انسٹیٹوٹس آف ہیلتھ انفیکشز ڈیزیز کے سربراہ انتھونی فیوسی کا کہنا ہے کہ کلینیکل ٹرائل کا دورانیہ کم از کم ایک سال سے 18 ماہ تک ہوسکتا ہے جس کے دوران اس کے محفوظ اور موثر ہونے کا تعین کیا جائے گا۔ اگر یہ منظوری کے مرحلے تک پہنچی تو یہ پہلی ویکسین ہوگی جس کی تیاری کے لیے میسنجر آر این اے (ایم آر این اے) نامی جدید ترین

ٹیکنالوجی استعمال کی گئی،میساچوسٹس سے تعلق رکھنے والی کمپنی موڈرینا نے اس ٹیکنالوجی کے ذریعے ویکسین کو جلد از جلد یعنی 42 دن میں تیار کرنے میں کامیابی حاصل کی۔ امریکا کی واشنگٹن ریاست میں 45 افراد پر اس کی آزمائش کا عمل شروع ہوا ہے جن کی عمریں 18 سے 55 سال کے درمیان ہیں اور وہ سب صحت مند ہیں۔اس ویکسین کی تیاری کے لیے وائرس کی نقول کی بجائے کورونا وائرس کی

جینیاتی معلومات کی ضرورت پڑی اور 42 دن میں ویکسین کو ایچ آئی ایچ حکام تک پہنچا دیا گیا۔ کمپنی کے مطابق اس ویکسین کو ایم آر این اے کے ساتھ درست کورونا وائرس پروٹین کے کوڈز سے لوڈ کی گئی ہے جس کو جسم میں انجیکٹ کیا جاتا ہے۔جسم میں جانے کے بعد لمفی نوڈز میں

موجود مدافعتی خلیات ایم آر این اے کو پراسیس کرتے ہیں اور ایسے پروٹین بنانا شروع کردیتے ہیں جو دیگر مدافعتی خلیات کو وائرس کی شناخت اور تباہ کرنے میں مدد دیتے ہیں۔کمپنی کا کہنا ہے کہ ہماری ویکسین جسم کے لیے کسی سافٹ وئیر پروگرام کی طرح ہے، جو پروٹینز تیار کرکے مدافعتی ردعمل بناتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…