جمعرات‬‮ ، 26 مارچ‬‮ 2026 

بابری مسجد کی جگہ رام مندر بنانے کے فیصلے کا انعام ، سابق چیف جسٹس کو رنجن گوگوئی کوپارلیمنٹ کا رکن بنادیا گیا

datetime 17  مارچ‬‮  2020 |

دہلی(ساوتھ ایشین وائر)بابری مسجد کا متنازعہ فیصلہ دینے والے بھارتی سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس رنجن گوگوئی کو بی جے پی حکومت نے راجیہ سبھا کا رکن نامزد کرکے انعام سے نواز دیا۔بھارتی سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس رنجن گوگوئی نے گزشتہ سال نومبر میں بابری مسجد کی ملکیت انتہا پسند ہندوں کو دینے کا حکم سنایا تھا۔

راجیہ سبھا کے رکن ٹی جی تلسی کی ریٹائرمنٹ کے نتیجے میں خالی نشست پر انہیں رکن نامزد کیا گیا۔سائوتھ ایشین وائر کے مطابق گوگوئی نے پانچ ججوں کے اس بنچ کے سربراہ تھے جس نے گزشتہ سال 9 نومبر کو بابری مسجد ۔ رام جنم بھومی ایودھیا اراضی تنازعہ کا فیصلہ سنایا تھا ۔ سینئر وکلا سنجے ہیگڑے، پرشانت بھوشن، گوتم بھاٹیانے سابق چیف جسٹس رنجن گگوئی کو راجیہ سبھا رکن بنائے جانے پر شدید تنقید کی ہے۔القمرآن لائن کے مطابق سپریم کورٹ کے سینئر وکیل سنجے ہیگڑے نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ اب یہ صرف ان کے ذاتی جوڈیشل ریکارڈ کا حصہ نہیں ہے۔ اس طرح سے انھوں نے اپنے ساتھ بیٹھنے والے سبھی ججوں کی آزادی اور غیر جانبداری پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ سائوتھ ایشین وائر کے مطابق سینئر وکیل گوتم بھاٹیا نے اس قدم کو آزاد عدالت کی موت قرار دیا ہے۔ انھوں نے اپنے ایک ٹوئٹ میں لکھا ہے کہ چیزوں کے واضح ہونے میں کچھ وقت ضرور لگا اور وہ کھل کر سامنے آ گیا، لیکن آزاد عدلیہ کی موت ہو گئی۔ آل انڈیا مجلس اتحادالمسلمین(اے آئی ایم آئی ایم) سربراہ اسدالدین اویسی نے اپنے ٹوئٹ میں سوال کر دیا ہے کہ کیا یہ معاوضہ ہے؟ ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی لکھ دیا ہے کہ کوئی شخص آخر کس طرح ججوں کی آزادی کا بھروسہ کر سکتا ہے۔ القمرآن لائن کے مطابق مشہور و معروف وکیل اور سماجی کارکن پرشانت بھوشن نے بھی سابق چیف جسٹس کو راجیہ سبھا رکن بنائے جانے کے بعد اپنا سخت رد عمل سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ظاہر کیا ہے۔ سپریم کورٹ بار ایسو سی ایشن کے سربراہ دشینت دوے نے سابق چیف جسٹس کو راجیہ سبھا رکن بنائے جانے کو سیاسی معاملہ قرار دیا ہے۔



کالم



ہیکل سلیمانی


اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…