جمعہ‬‮ ، 02 اکتوبر‬‮ 2026 

کورونا سے متاثرہ شخص کی بیوی قرنطینہ سے فرار

datetime 16  مارچ‬‮  2020 |

نئی دہلی(این این آئی)بھارت میں کورونا وائرس سے متاثرہ ایک مریض کی بیوی قرنطینہ سے بھاگ گئی جسے حکام نے دوبارہ پکڑ کے ٹیسٹ کیے تو وہ بھی کورونا کا شکار نکلی۔بھارتی میڈیا کے مطابق ریاست کرناٹک کے شہر بنگلور میں گوگل کے ایک ملازم میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی، اس دوران انکشاف ہوا کہ اس کی گذشتہ ماہ ہی شادی ہوئی ہے اور دونوں میاں بیوی حال ہی میں یونان،

فرانس اور اٹلی میں ہنی مون سے واپس آئے ہیں۔رپورٹ کے مطابق 25 سالہ خاتون کو شوہر کا ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد قرنطینہ میں رکھاگیا تھا لیکن وہ اس کے اگلے ہی دن بھاگ کر اپنے میکے آگرہ چلی گئی۔حکام کے مطابق خاتون بذریعہ جہاز نئی دہلی پہنچی جس کے بعد وہ ٹرین میں سفر کرکے آگرہ پہنچی۔محکمہ صحت کے حکام خاتون کو تلاش کرتے ہوئے اس کے میکے پہنچے تو اس کے والد نے اپنی بیٹی کی گھر میں موجودگی سے انکار کردیا، بعد ازاں مقامی مجسٹریٹ کی مدد سے خاتون اور اس کے گھر کے دیگر 8 افراد کو مقامی اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ان کے ٹیسٹ کیے گئے۔ٹیسٹ رپورٹس کے نتائج کے مطابق خاتون میں بھی کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے جبکہ اسپتال انتظامیہ کا کہنا تھا کہ خاتون کورونا وائرس سے انتہائی متاثر ہے۔خاتون کے والد اوربہن کوقرنطینہ میں رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے جب کہ دیگر اہلخانہ کی بھی نگرانی کی جارہی ہے جبکہ محکمہ صحت کے حکام کی جانب سے خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ مذکورہ خاتون کے سفر کے دوران دیگر افراد کے بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔‎

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…