ہفتہ‬‮ ، 15 اگست‬‮ 2026 

نئی دہلی میں کورونا وائرس سے بچنے کیلئے ’’گائے کا پیشاب‘‘ پینے کی پارٹی، ہندوئوں نے گوبر کھانے کے بھی فوائد بتا دیے، دنیا سے الگ انوکھا کام جاری

datetime 15  مارچ‬‮  2020 |

نئی دہلی (این این آئی)بھارت کی ہندو انتہاپسند جماعتوں میں سے ایک ہندو مہاسبھا جس کا اصل نام ’اکھل بھارت ہندو مہاسبھا‘ تھا کی جانب سے انڈین دارالحکومت نئی دہلی میں ’کورونا وائرس‘ سے بچنے کیلئے ’گائے کا پیشاب پینے‘ کی پارٹی کا انعقاد کیا گیا۔ہندو مہا سبھا کے سربراہ سوامی چکرپانی مہاراج نے رواں ماہ 4 مارچ کو دعویٰ کیا تھا کہ ’گائے کا پیشاب پینے اور گوبر کھانے‘ سے ’کورونا وائرس‘ ختم ہوجاتا ہے

اور انہوں نے اس ضمن میں ہولی کے بعد ملک بھر میں ’گائے کے پیشاب‘ پینے کی پارٹیوں کے انعقاد کا اعلان بھی کیا تھااور اب انہوں نے اپنے وعدے پر عمل کرتے ہوئے دارالحکومت نئی دہلی میں پہلی ’گائے موتر (گائے کا پیشاب پینے کی پارٹی انعقاد کرکے بھارت میں ’کورونا وائرس‘ کے علاج کے حوالے سے خود ساختہ راہ اپنالی ہے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق ہندو مہاسبھا کی جانب سے دارالحکومت نئی دہلی میں موجود تنظیم کے ہیڈ کوارٹر میں ’گائے موتر‘ پارٹی کا انعقاد کیاجس میں 200 مرد و خواتین نے شرکت کی۔رپورٹ کے مطابق پارٹی میں شرکت کرنے والے مرد و خواتین نے نہ صرف ’گائے کا پیشاب‘ پیا بلکہ پارٹی میں شریک ہونے والے افراد نے حیران کن دعوے بھی کیے۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ پارٹی میں شامل ہونے والے زیادہ تر افراد اگرچہ ہندو مہاسبھا کے کارکن تھے جنہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ گزشتہ 21 سال سے ’گائے کے پیشاب پینے سمیت گائے کے گوبر سے نہاتے آ رہے ہیں۔پارٹی میں شامل ہونے والے افراد نے دعویٰ کیا تھا کہ گزشتہ 21 سال سے گائے کے گوبر سے نہانے اور گائے کے پیشاب پینے کی وجہ سے انہیں کبھی کوئی بیماری نہیں ہوئی۔رپورٹ کے مطابق نئی دہلی میں گائے کا پیشاب پینے کی کامیاب پارٹی کے انعقاد کے بعد ہندو مہاسبھا کے سربراہ کا کہنا تھا کہ جلد ہی ملک کے دیگر شہروں میں بھی ’گائے موتر‘ پارٹیاں منعقد کی جائیں گی اور لوگوں کو ’گائے کا پیشاب‘ پینے کے فوائد بتائیں جائیں گے۔

رپورٹ کے مطابق ہندو مہاسبھا کے سربراہ کی طرح بھارتی حکمران جماعت ’بھارتیہ جنتا پارٹی‘ (بی جے پی) کے ایک رکن پارلیمنٹ نے بھی حال ہی میں پارلیمنٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ گائے کے پیشاب پینے سے کینسر ختم ہوجاتا ہے جبکہ انہوں نے گائے کا پیشاب پینے کو دیگر بیماریوں کے خاتمے کا سبب بھی قرار دیا تاہم بھارتی سائنسدان اور طبی ماہرین اس بات سے اتفاق نہیں کرتے اور ان کا کہنا تھا کہ تجربات سے یہ بات ثابت نہیں ہوئی کہ گائے کا پیشاب‘ پینے یا ’گوبر کھانے‘ سے کینسر سمیت دیگر بیماریوں کا علاج ہوجاتا ہو۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…