جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

مصر میں قرون وسطیٰ کے مضبوط ترین قلعے کی شان وشوکت آج بھی قائم

datetime 11  مارچ‬‮  2020 |

قاہرہ(این این آئی )مصرتاریخی مقامات کی سرزمین کہلاتی ہے۔ مصر میں جہاں ایک طرف احرام مصر کا شہرہ ہے وہیں کئی تاریخی قلعے بھی اپنی شان وشوکت، مضبوطی اور خوبصورت فن تعمیر کی وجہ سے مشہور ہیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق انہی میں صلاح الدین ایوبی قلعہ بھی شامل ہے۔ صلاح الدین ایوبی قلعہ اپنے بہترین فن تعمیر، ڈیزائن کے ساتھ ساتھ مصر میں تاریخی اور ثقافتی ورثہ کی حیثیت رکھتا ہے۔

سلطان صلاح الدین ایوبی کے دور میں تعمیر کیے جانے والے اس قلعے کو قرون وسطیٰ کا مضبوط اور طاقت ور جنگی قلعہ کہا جاتا ہے۔ کئی صدیاں بیت جانے کے بعد اس کی شان وشوکت آج بھی قائم ودائم ہے۔مصرکی عین الشمس یونیورسٹی میں تاریخ کی پروفیسر ڈاکٹر شیرین صادق نے بات کرتے ہوئے صلاح الدین ایوبی قلعے کی تاریخی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ان کا کہنا تھا کہ قلعہ صلاح الدین قرون وسطیٰ کا زمین پرموجود مضبوط اور محفوظ ترین جنگی جہاز تھا۔ قاہرہ کے دفاع میں اس قلعے کا اہم کردار تھا۔یہ قلعہ جبل المقطم سے الگ کی گئی ایک جگہ پرتعمیر کیا یہی وجہ ہے کہ اسے قلعہ الجبل بھی کہا جاتا تھا۔ یہ جگہ قاہرہ سے بلندی پر واقع ہونے کی بدولت پورے شہر کا نظارہ فراہم کرتی۔ اس سے حملہ آوروں کو دیکھنے اور ان کی نقل وحرکت کا پتا چلانے میں مدد ملتی۔عین شمس یونیورسٹی میں تاریخ کی پروفیسر نے کہا کہ اگرچہ صلاح الدین 1176ء میں اس قلعے کی تعمیر کے خواہشمند تھے۔ انہوں نے قلعے کے لیے جگہ کو بہت احتیاط سے منتخب کیا تھا لیکن یہ ان کی زندگی میں مکمل نہیں ہوا تھا بلکہ یہ قلعہ ان کے بھائی سلطان الکامل بن العادل نے 1208 ء میں مکمل کیا۔ اس کے بعد یہ قلعہ محمد علی کے دور تک حکومت کا پایہ تخت رہا۔اس قلعے کے 13 برج بنائے گئے تاکہ اس میں موجود سپاہیوں کو قاہرہ کے دفاع میں کوئی مشکل پیش نہ آئے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…