کابل (مانیٹرنگ ڈیسک)افغان صدر اشرف غنی پاکستان کے مخالف کھل کر سامنے آگئے ۔ تفصیلات کے مطابق صوبہ ننگر ہار میں عوامی اجتماع سے کطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ اگر افغان طالبان اپنی ساتھیوں کی رہائی چاہتے ہیں اور وہ واقعی سنجیدہ ہیں تو پاکستان سے تعلق ختم کر دیں ، میں آپ کے ساتھیوں کی رہائی کا حکم جاری کر دوں گا ۔ اشرف غنی نے کہا ہے کہ طالبان امریکہ کیساتھ امن معاہدے پر
دستخطر کرنے کے بعد اپنی بغاوت کا جواز پیش نہیں کر سکتے اگر طالبان نے اپنے قیدیوں کی رہائی کو دوسرے ممالک سے بات چیت کرنے کی شرط کے طور پر مقرر کیا ہے تو ہمارے پاس بھی شرائط ہیں۔دوسری جانب عارضی جنگ بندی کا دورانیہ اب ختم ہو چکا ،افغان فورسز کیخلاف کاروائیاں دوربارہ شروع کر نے کا فیصلہ کیا تھا ۔ ترجمان ذبیح اللہ مجاہدنے کہا ہےکہ عارضی جنگ بندی کا دورانیہ اب ختم ہوچکا ہے لہٰذا افغان فورسز کیخلاف اپنی معمول کی کارروائیاں دوبارہ شروع کریں گے۔افغان طالبان کا یہ بیان صدر اشرف غنی کے متنازعہ بیان کے بعد سامنے آیا ہے ۔ اس حوالے سے طالبان کے ذرائع نے کہا ہے کہ افغان امن معاہدے کیلئے 7 روزہ عارضی جنگ بندی کا اعلان کیا گیا تھا، اب اس کا دورانیہ ختم ہو گیا ہے، جبکہ معاہدے کا اطلاق افغان فورسز کیخلاف کاروائی پر نہیں ہوتا اس لیے ان کیخلاف دوبارہ سے کاروائیوں کا آغاز کیا جا رہا ہے۔ترجمان نے کہا ہے کہ ہمارے افغان طالبان کسی بھی غیر ملکی افواج کونشانہ نہیں بنائیں بلکہ یہ کاروائی صرف افغان فورسز کیخلا ف کی جائے گی ۔ دوسری جانب افغان صدر اشرف غنی کی جانب سے امریکا اور طالبان معاہدے کے تحت قیدیوں کو رہا نہ کرنے کے اعلان کے بعد طالبان نے بین الافغان مذاکرات میں شرکت نہ کرنے فیصلہ کرلیا۔



















































