جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

اسانج کو سزا مت دیں، ہمارے حوالے کر دیں،امریکا کا مطالبہ

datetime 25  فروری‬‮  2020 |

لندن(این این آئی)برطانیہ کی ایک عدالت میں وکی لیکس کے بانی جولین اسانج کے خلاف مقدمے کی سماعت شروع ہو گئی ہے۔ اس کی مدعی امریکی حکومت ہے جو چاہتی ہے کہ اسانج کو امریکہ کے حوالے کر دیا جائے۔ اسانج پر جو الزامات لگائے گئے ہیں، امریکہ میں ان کی سزا 175 سال تک قید ہو سکتی ہے۔اسانج کے خلاف مقدمے کی سماعت لندن کی بیل مارش جیل میں ہوئی۔ انہیں گزشتہ سال اپریل میں گرفتار کیا گیا تھا

اور ستمبر سے وہ اسی جیل میں قید ہیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق امریکی وکلا نے عدالت کو بتایا کہ اسانج کے خلاف مغربی ورجینیا کی وفاقی عدالت میں جاسوسی کے الزامات میں مقدمہ درج ہے۔انہوں نے عراق اور افغانستان میں امریکی کارروائیوں سے متعلق فوجی حکام اور سفارت کاروں کے خفیہ پیغامات پر مبنی لاکھوں صفحات کو چوری اور عام کرنے والوں کی مدد کی۔ ان کا اشارہ امریکی انٹیلی جینس اینالسٹ چیلسی میننگ کی طرف تھا۔امریکی انتظامیہ کے وکیل جیمز لوئیس کا کہنا تھا کی اسانج صحافی نہیں بلکہ ایک ہیکر ہیں جنھوں نے خفیہ دستاویزات کو شائع کرنے کی سازش کی۔ ان کے اس اقدام سے سینکڑوں افراد کی جان کو خطرہ لاحق ہوا۔وکی لیکس کے ابتدائی پارٹنر نیویارک ٹائمز، گارڈین اور تین دوسرے اخبارات نے ایک مشترکہ بیان میں ذرائع کے نام شائع کرنے کے اقدام پر تنقید کی تھی۔امریکی پراسیکیوٹر نے کہا کہ اسانج پر مقدمہ ایسی معلومات شائع کرنے پر نہیں بنایا گیا جو امریکی حکومت عام نہیں کرنا چاہتی تھی۔ اس کی بجائے ان پر خفیہ معلومات چرانے کا الزام ہے۔ انھوں نے زور دیا کہ اسانج کے بارے میں فیصلہ کرنا برطانوی عدالت کا کام نہیں بلکہ وہ صرف انہیں امریکہ کے حوالے کر دے۔ انھوں نے یہ بھی واضح کیا کہ الزامات ثابت ہونے پر اسانج کو پورے 175 سال کی سزا نہیں ملے گی بلکہ 48 سے 63 ماہ کی قید ہو سکتی ہے۔اسانج کے وکلا نے

موقف اختیار کیا کہ ان کے خلاف مقدمہ سیاسی بنیادوں پر بنایا گیا ہے اور انہیں امریکہ میں منصفانہ سماعت کی امید نہیں ہے۔ انہوں نے خفیہ دستاویزات حاصل کرنے میں چیلنسی میننگ کی مدد نہیں کی تھی۔مقدمے کی سماعت کے موقع پر جیل کے باہر اسانج کے حامی کافی تعداد میں موجود تھے اور ان کا شور و غل عدالت تک پہنچ رہا تھا۔ ایک موقع پر جولین اسانج نے عدالت سے کہا کہ وہ اس شور کی وجہ سے عدالت کی کارروائی پر دھیان نہیں دے پا رہے۔اس مقدمے کی سماعت دو مرحلوں میں ہو گی۔ پہلے مرحلے میں قانونی دلائل دیے جائیں گے جب کہ مئی میں دوسرے مرحلے میں گواہ اور شواہد پیش کیے جائیں گے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ اس مقدمے کا فیصلہ کئی ماہ بلکہ سال بھی لگ سکتے ہیں۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…