منگل‬‮ ، 17 فروری‬‮ 2026 

بھارت کی جانب سے کشمیر کی حیثیت کاخاتمہ ٹرمپ کی ثالثی کے دعوؤں سے منسلک

datetime 24  فروری‬‮  2020 |

واشنگٹن(این این آئی)امریکی کانگریشنل ریسرچ سروس (سی آر ایس) نے بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کے خاتمے کو صدر ٹرمپ کی جانب سے کشمیر پر ثالثی کے دعوؤں سے منسلک کردیا  ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق یہ واقعات (صدر ٹرمپ کی ثالثی کی پیشکش) انڈیا کی جانب سے اگست میں کیے جانے والے اقدامات کی وجہ ہو سکتے ہیں۔سی آر ایس کی ویب سائٹ کے مطابق

یہ لائبریری آف کانگریس کی قانون ساز شاخ ہے جس کا کام سیاسی وابستگیاں بالائے طاق رکھ کر کانگریس اور سینیٹ میں کمیٹیز اور ان کے تمام ممبران کو پالیسی اور قانونی پہلوؤں پر تجزیے فراہم کرنا ہے۔سی آر ایس کی رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ کا پاکستانی لیڈر کا گرم جوشی سے استقبال، ان کا یہ کہنا کہ وہ چاہتے ہیں کہ پاکستان امریکہ کی افغانستان سے انخلا میں معاونت کرے اور امریکہ کی پاکستان کو آئی ایم ایف پیکج فراہم کرنے میں مدد جیسے واقعات سے انڈیا میں ماہرین میں تشویش کی لہر دوڑی۔جنوبی ایشیا پر نظر رکھنے والے ایک محقق کے مطابق اگر آپ کو امریکہ کی مستقبل میں پالیسی کے حوالے سے جاننا ہے تو اس کا افغان امن عمل میں کردار اور ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں پاکستان کی موجودگی کے حوالے سے مؤقف اہم ہو گا،مجھے نہیں لگتا کہ ثالثی کے حوالے سے بالکل بات ہی نہیں ہو گی لیکن میرے خیال میں عمران خان اور نریندر مودی مذاکرات کی میز پر بغیر یہ جانے بیٹھنا ہی نہیں چاہیں گے کہ وہاں کشمیر کے کن مسائل سے متعلق بات ہو گی اور اگر صدر ٹرمپ ثالث ہوں گے تو دونوں کو ایسی چیزوں پر رضامندی ظاہر کرنی پڑ سکتی ہے جو دونوں ملکوں کے عوام کے لیے قابلِ قبول نہیں ہو گی۔‎



کالم



وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں


1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…