جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

متنازعہ شہریت قانون، بھارتی سپریم کورٹ نےبڑا حکم جاری کردیا

datetime 22  جنوری‬‮  2020 |

نئی دہلی(این این آئی) بھارتی سپریم کورٹ نے شہریت کے متنازع قانون پر مودی حکومت سے جواب طلب کرلیا۔میڈیارپورٹس کے مطابق بھارتی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ایس اے بوبڑے کی سربراہی میں 5 رکنی بینچ شہریت کے متنازع قانون کے خلاف دائر تقریباً 143 درخواستوں پر سماعت کرے گا۔

بھارتی میڈیا کے مطابق سپریم کورٹ نے شہریت کے متنازع قانون سٹیزن شپ ترمیمی ایکٹ (سی اے اے) پر حکم امتناع دینے سے انکار کرتے ہوئے مودی حکومت کو 4 ہفتوں میں جواب داخل کرنے کی ہدایت کی ہے۔سپریم کورٹ نے کہا کہ شہریت کے متنازع قانون کے خلاف دائر ہونے والی 140 سے زائد درخواستوں پر 5 رکنی بینچ سماعت کرے گا جو اس معاملے پر حکومت کو سنے بغیر حکم امتناع نہیں دے گا جب کہ بینچ ان درخواستوں پر ایک عبوری حکم بھی جاری کرے گا۔بھارت کی سپریم کورٹ نے ان تمام درخواستوں پر فیصلہ ہونے تک تمام ہائیکورٹس کو سی اے اے کے حوالے سے دائر درخواستوں پر سماعت سے بھی روک دیا ہے۔اس کے علاوہ سپریم کورٹ نے اسی معاملے میں بھارتی ریاست آسام اور تری پورا کی درخواستوں کو علیحدہ سننے کا اعلان کیا ۔بھارتی میڈیا کے مطابق سپریم کورٹ نے 9 جنوری کو دائر ایک درخواست کو بھی مسترد کیا تھا جس میں سی اے اے کو آئینی قرار دینے کی استدعا کی گئی تھی جب کہ عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا تھا کہ ملک اس وقت مشکل حالات سے گزر رہا ہے لہٰذا امن کے لیے اقدامات کرنے چاہئیں

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…