جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

بھارتی سپریم کورٹ کا ایک اور متنازعہ فیصلہ، بابری مسجد کیس فیصلے پر نظرثانی درخواستوں پر بھارتی سپریم کورٹ کا حیران کن جواب

datetime 13  دسمبر‬‮  2019
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

نئی دہلی (این این آئی)بھارتی سپریم کورٹ نے بابری مسجد کیس کے فیصلے کے خلاف دائر کی گئیں تمام 18 درخواستیں مسترد کر دیں۔بھارتی میڈیا رپورٹ کے مطابق بھارتی چیف جسٹس ایس اے بودے کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے چیمبر میں درخواستوں پر سماعت کی۔بینچ کے دیگر ججز میں سَنجیو کھنا، ڈی وائی چندراچود، اَشوک بھوشَن اور مسلمان جج ایس عبدالنذیر شامل تھے۔

نظرثانی درخواستوں کی سماعت کرنے والے بینچ کے چار ججز وہی تھے جو کیس کا فیصلہ سنانے بینچ کا بھی حصہ تھے، تاہم سابق بھارتی چیف جسٹس رنجن گوگوئی کی جگہ سنجیو کھنا کو بینچ کا حصہ بنایا گیا تھا۔عدالت نے دائر درخواستوں میں سے کئی یہ کہہ کر مسترد کیں کہ نظرثانی اپیلیں دائر کرنے والے کیس میں براہ راست فریق نہیں لہٰذا یہ درخواستیں قابل سماعت نہیں ہیں۔عدالت عظمیٰ میں درخواستیں دائر کرنے والوں میں جمعیت علمائے ہند اور آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ (اے آئی ایم پی ایل بی) کے حمایت یافتہ درخواست گزار بھی شامل تھے۔درخواست گزاروں کا کہنا تھا کہ کیس کے فیصلے نے دہائیوں سے اٹھائے جانے والے ہندو جماعتوں کے غیر قانونی اقدامات کو دوام بخشا ہے، جن میں 1992 میں بابری مسجد کو شہید کرنے کا اقدام بھی شامل ہے۔یاد رہے کہ بھارتی سپریم کورٹ نے 9 نومبر کو 1992 میں شہید کی گئی تاریخی بابری مسجد کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے مسجد کی متنازع زمین پر رام مندر تعمیر کرنے اور مسلمانوں کو مسجد تعمیر کرنے کے لیے متبادل کے طور پر علیحدہ اراضی فراہم کرنے کا حکم دیا تھا۔ایک ہزار 45 صفحات پر مشتمل مذکورہ فیصلہ اس وقت کے بھارتی چیف جسٹس رنجن گوگوئی کی سربراہی میں 5 رکنی بینچ نے سنایا تھا۔فیصلے کے ابتدائی حصے میں عدالت عظمیٰ نے بابری مسجد کے مقام پر نرموہی اکھاڑے اور شیعہ وقف بورڈ کا دعویٰ مسترد کردیا۔اہم ترین اور 27 سال سے جای کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے بھارتی سپریم کورٹ کا کہنا تھا کہ آثارِ قدیمہ کے جائزے سے یہ بات سامنے ائی کہ بابری مسجد کے نیچے بھی تعمیرات موجود تھیں جو اسلام سے تعلق نہیں رکھتی تھیں۔فیصلے میں کہا گیا کہ اس بات کے اطمینان بخش شواہد موجود ہیں کہ بابری مسجد کسی خالی زمین پر تعمیر نہیں کی گئی تھی۔فیصلے کے بعد مسلم تنظیموں اور افراد کی جانب سے بھارتی عدالت عظمٰی میں نظرثانی درخواستیں دائر کی گئی تھیں۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…