جمعرات‬‮ ، 13 اگست‬‮ 2026 

حکم عدولی پر ٹرمپ نے امریکی بحریہ کے سربراہ کو برطرف کردیا

datetime 26  ‬‮نومبر‬‮  2019 |

واشنگٹن(این این آئی)امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بحریہ کے سربراہ رچرڈ اسپنسر کو نیوی ایلیٹ فورس سے تنازع میں نظم و ضبط کی خلاف ورزی کے الزام میں عہدے سے برطرف کردیا جس کے بعد انہوں نے صدر تنقید کا نشانہ بنایاہے۔رچرڈ اسپنسر بطور سویلین نیوی سیکریٹری کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے لیکن صدر ٹرمپ کی فوجی معاملات میں مداخلت کے باعث عسکری قیادت میں غصہ پایا جاتا ہے۔

میڈیارپورٹس کے مطابق امریکی میڈیا کو جاری ایک خط میں ٹرمپ کا حوالہ دیتے ہوئے رچرڈ اسپنسر کہنا تھا کہ مجھے تعینات کرنے والے کمانڈر انچیف کے ساتھ میرا اعتماد اچھے حکم اور نظم کے حوالے سے بنیادی اصولوں پر اس طرح کا نہیں رہا۔انہوں نے کہا کہ میں امریکی نیوی کے سیکریٹری کے عہدے سے برطرفی کو قبول کرتا ہوں۔رپورٹ کے مطابق برطرف نیوی سربراہ پر قواعد کی خلاف ورزی کا تنازع نیوی ایلیٹ کے اہلکارایڈورٹ گیلگر کے فیصلے پر شروع ہوا تھا جنہیں ایک ہائی پروفائل کیس میں جنگی جرائم کے الزامات عائد کیے گئے تھے لیکن جرم اس سے کم ثابت ہوا تھا۔ڈونلڈ ٹرمپ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر میں اپنے پیغام میں ایڈورڈ گیلگر فیصلے پر اعتراض کیا تھا۔امریکی صدر نے کہا تھا کہ نیوی کی جانب سے جس طرح ایڈورڈ گیلگر کا ٹرائل کیا گیا اس پر میں خوش نہیں ہوں، ان کے ساتھ بری طرح پیش آئے حالانکہ وہ تقریباً تمام الزامات سے بری ہوچکے تھے۔ان کا کہنا تھا کہ میں ایڈورڈ کے عہدے کو بحال کرتا ہوں تاکہ گزشتہ انتظامیہ سے زیادہ قیمت ادا ہو۔اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ سیکریٹری دفاع مارک ایسپر کا کہنا تھا کہ انہیں اسپنسر کے استعفے کے حوالے سے کہا گیا تھا کیونکہ وہ معاملات پر وائٹ ہاوس کا اعتماد کھوچکے ہیں۔خیال رہے کہ ٹرمپ کی جانب سے معافی حاصل کرنے والے نیوی افسر پر 2017 میں عراق میں ایک قیدی کو چھریوں کے وارسے

مارنے کا الزام تھا۔رواں برس جولائی میں انہیں ان الزامات سے بری کردیا گیا تھا تاہم قیدی کی لاش کے ساتھ دیگر ساتھیوں کے ہمرا گروپ تصویر بنوانے کے جرم میں سزا دی گئی تھی جس کے نتیجے میں ان کے عہدے میں تنزلی ہوئی تھی۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 17 نومبر کو قتل اور جنگی جرائم کے الزام میں قید چند سابق امریکی فوجیوں کی سزا کو معاف کردیا تھا جس پر ماہرین نے انہیں تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اس اقدام کو قانون کی عمل

داری کی توہین قرار دے دیا تھا۔رپورٹ کے مطابق امریکی فوج کے فرسٹ لیفٹیننٹ کلنٹ لورینس نے 2012 میں افغانستان میں تین غیر مسلح افغان شہریوں پر فائرنگ کا حکم دیا تھا جس کے نتیجے میں دو شہری ہلاک ہو گئے تھے۔اس جرم میں انہیں 19سال کی سزا دی گئی تھی اور وہ 6سال کی سزا کاٹ چکے تھے تاہم امریکی صدر نے اپنے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے ان کی سزا ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…