بدھ‬‮ ، 30 ستمبر‬‮ 2026 

ترکی کی شام میں فوجی آپریشن پھر سے شروع کرنے کی دھمکی

datetime 22  اکتوبر‬‮  2019 |

انقرہ(این این آئی) ترکی نے کرد ملیشیاکے شمالی شام سے انخلا نہ ہونے کی صورت میں پھر سے فوجی آپریشن کرنے کی دھمکی دے دی۔عرب خبر رساں ادارے کے مطابق ترک وزیر خارجہ میولود چاوش نے خبردار کیا کہ اگر کرد ملیشیا نے امریکا کی طرف دی گئی سیز فائر کی ڈیڈلائن کے ختم ہونے سے پہلے خطے سے انخلا نہیں کیا تو ترکی شمالی شام میں دوبارہ فوجی آپریشن شروع کرے گا۔انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس

35 گھنٹے ہیں اور اس دوران کرد ملیشیا انخلا نہیں کرتی تو ہم آپریشن بحال کریں گے، یہ اس لیے بھی ہے کہ ہم نے امریکیوں سے اس پر اتفاق کیا تھا۔ترک وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ کرد باغی امریکی ڈیل پر عمل کرتے ہوئے ان علاقوں سے انخلا کررہے تھے جن کو 9 اکتوبر کے حملے کے بعد ترکی کنٹرول کرتا ہے۔ترکی کے وزیر خارجہ نے الزام لگایا کہ کرد ملیشیا کے گروپ نے معاہدے کے دوران 30 مرتبہ براہ راست فائرنگ کی جس سے ایک ترکی فوجی بھی ہلاک ہوگیا اس لیے ترکی ان حملوں کا بدلہ لیگا۔واضح رہے کہ ترکی اپنی سرحد سے متصل شامی علاقے کو محفوظ بنا کر ترکی میں موجود کم و بیش 20 لاکھ شامی مہاجرین کو بھی وہاں ٹھہرانا چاہتا ہے اور ترکی کا مطالبہ ہے کہ کرد ملیشیا شمالی شام کی 30 کلو میٹر کی سرحد سے انخلاکرے۔ترکی نے کرد ملیشیا سے شمالی شام کا سرحدی علاقہ خالی کرانے کے لیے شام میں فوجی آپریشن شروع کیا تھا جسے امریکی مداخلت پر 5 روز کیلئے روک دیا گیا ہے۔خیال رہے کہ کرد ملیشیا آزاد ملک کے قیام کیلئے سرگرم ہے، عراق میں کردستان کے نام سے ایک خودمختار علاقہ کردوں کو دیا گیا ہے تاہم وہ شام اور ترکی کے کچھ علاقوں کو بھی کردستان کا حصہ بنانا چاہتے ہیں جبکہ ترکی کرد ملیشیا کو دہشت گرد قرار دیتا ہے۔2014 میں امریکی صدر باراک اوباما نے پہلی مرتبہ داعش کے خلاف شام میں فضائی آپریشن شروع کیا اور 2015 کے اواخر میں اپنے 50 فوجی بھیج کر شامی خانہ جنگی میں باضابطہ طور پر حصہ لیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…