حد سے زیادہ کام ۔۔۔صرف ایک سال کے دوران کتنے افراد موت کی وادی میں چلے گئے؟دنیا کے اہم ملک میں صورتحال تشویشناک ہوگئی

  بدھ‬‮ 2 اکتوبر‬‮ 2019  |  11:50

ٹوکیو(آن لائن) جاپان میں ایک سال کے دوران کام کی زیادتی کے باعث 158اموات کے بعد صنعتوں اوردیگر اداروں کو اس رحجان کی روک تھام کے لیے اقدامات کی ہدایت کی گئی ہے۔اس ضمن میں جاری ہونے والی ایک رپورٹ میںصنعتوں خصوصاً تعمیرات اور ذرائع ابلاغ کے شعبوں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ کام کی زیادتی کے باعث ہونے والی اموات کی روک تھام کے لئے سنجیدہ اقدامات کریں۔اِس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ لیبر حکّام نے تسلیم کیا ہے کہ مالی سال 2018ء کے دوران بیماری یا خودکشی سے ہونے والی 158 اموات حد سے زیادہ


کام کی وجہ سے ہوئی تھیں۔ رپورٹ میں مزید یہ بھیکہا گیا ہے کہ یہ تعداد ایک عشرے میں کم ترین ہے لیکن خبردار کیا ہے کہ یہ اب بھی زیادہ ہے۔مذکورہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ تعمیراتی صنعت میں 78 کارکن 2010ء سے پانچ سال کے عرصے کے دوران، حد سے زیادہ کام کرنے کی وجہ سے دماغی یا دل کی بیماریوں سے ہلاک ہوئے۔اِس میں مزید یہ بھی بتایا گیا ہے کہ مذکورہ عرصے کے دوران ہی تعمیراتی شعبے میں 54 کارکنان نے نفسیاتی توازن بگڑنے کے باعث خودکشی کی۔ذرائع ابلاغ کی صنعت میں حد سے زیادہ کام کے بوجھ کے باعث بیماری سے 10 اموات ہوئیں جبکہ مذکورہ پانچ سال کے دورانیے میں چار افراد نے خودکشی کی۔‎


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

براڈ شیٹ

شریف الدین پیرزادہ عرف عام میں جدہ کے جادوگر کہلاتے تھے‘ یہ ملک کے واحد قانون دان تھے جو قانون سے ہر قسم کی گنجائش نکال لیتے تھے چناں چہ ایوب خان سے لے کر جنرل پرویز مشرف تک یہ ملک کے ہر آمر کے دست راست رہے‘ جنرل ضیاء الحق مرشد جب کہ جنرل پرویز مشرف انہیں ....مزید پڑھئے‎

شریف الدین پیرزادہ عرف عام میں جدہ کے جادوگر کہلاتے تھے‘ یہ ملک کے واحد قانون دان تھے جو قانون سے ہر قسم کی گنجائش نکال لیتے تھے چناں چہ ایوب خان سے لے کر جنرل پرویز مشرف تک یہ ملک کے ہر آمر کے دست راست رہے‘ جنرل ضیاء الحق مرشد جب کہ جنرل پرویز مشرف انہیں ....مزید پڑھئے‎