سعودی تیل تنصیبات پر حملوں میں ایران ملوث تھا یا نہیں؟سعودی عرب خود بھی تذبذب کا شکار ہوگیا،حیرت انگیز اعلان کردیا

  اتوار‬‮ 22 ستمبر‬‮ 2019  |  19:27

ریاض (این این آئی)سعودی عرب نے تیل کی تنصیبات پر حملوں کے حوالے سے تازہ بیان میں کہا ہے کہ اگر ایران کا کوئی کردار سامنے آیا تو جواب دیں گے۔میڈیارپورٹس کے مطابق سعودی وزیر خارجہ امور عادل الجبیر نے کا کہنا تھا کہ اگر تحقیق میں تصدیق ہوجائے کہ حملوں کا ذمہ دار ایران ہے تو ریاض مناسب قدم لے گا۔عادل الجبیر کا کہنا تھا کہ سعودی عرب اپنی سلامتی اور استحکام کو یقینی بنانے کے لیے تحقیق کی بنیاد پر مناسب اقدامات کرے گا۔ سعودی وزیر نے ایران کے خلاف کسی قسم کی مخصوص کارروائی کے تاثر کو رد


کردیا۔صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 'ہمیں یقین ہے کہ یہ حملہ یمن سے نہیں ہوا یہ شمال سے آیا تھا تاہم تفتیش اس کو ثابت کرے گی'۔دریں اثناء ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف نے کہاہے کہ جنگ ہوئی تو یہ محدود نہیں بلکہ پورا خطہ لپیٹ میں آئے گا۔امریکی ٹی وی چینل کو دیئے گئے انٹرویو میں جواد ظریف نے کہا کہ اقوام متحدہ کے رکن ممالک کو ویزے جاری کرنا امریکا کی ذمہ داری ہے، امریکا نے مجھے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں شرکت سے روکنے کی پوری کوشش کی، ویزے کے ساتھ منسلک خط میں مجھے ویزے کے لیے نااہل قرار دیا گیا، مجھے ویزے کا اجرا استثنیٰ کی بنیاد پر ہوا۔ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ اگر جنگ ہوئی تو یہ محدود نہیں بلکہ پورا خطہ لپیٹ میں آئے گا، ہم پر اعتماد ہیں کہ جو جنگ کی شروعات کرے گا وہ جنگ کا اختتام نہیں کرے گا اور جنگ کا آغاز ہم نہیں کریں گے۔جواد ظریف نے مزید کہا کہ سعودی تیل تنصیبات پر حملے کامعاملہ غلط سمت کی طرف لے جایا جارہا ہے، ممکن ہے کہ ہم سعودی تیل تنصیبات پر حملے سے متعلق اقوام متحدہ کی تحقیقات کو قبول نہ کریں کیونکہ ہم نہیں جانتے کہ کس بنیاد پراقوام متحدہ کے ماہرین کو بھیجا گیا ہے، اقوام متحدہ نے تحقیقات کے لیے ماہرین بھیجنے پر ہم سے مشاورت نہیں کی، اقوام متحدہ نے غیرجانبدار تحقیقات کیں تو ثابت ہوجائے گا کہ حملہ ایران نے نہیں کیا۔

موضوعات:

loading...