بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

خانہ کعبہ میں 100 سے زائد افراد کی شہادت کی ذمہ دار کنسٹریکشن کمپنی بن لادن گروپ سے تعلق رکھنے والے تمام ملزمان بری

datetime 9  ستمبر‬‮  2019 |

ریاض(این این آئی)سعودی عرب کی فوجدار ی عدالت نے بیت اللہ میں تعمیراتی کام کے دوران وزنی کرین گرنے کے باعث 100 سے زائد افراد کی شہادت کی ذمہ دار کنسٹریکشن کمپنی بن لادن گروپ سے تعلق رکھنے والے ملزمان کو عدم ثبوت کی بناء پر بری کردیا۔ سعودی عرب کے اخبار کے مطابق سعودی عرب کے فوجداری عدالت نے حرم میں کرین کے واقعے کی 9 ماہ تک مسلسل سماعت کے بعد کنسٹریکشن کمپنی سے تعلق رکھنے والے

ملزمان کو عدم ثبوت کی بناء پر بری کرتے ہوئے فیصلہ سنایا کہ بن لادن گروپ کے ملازمین کے خلاف کوتاہی یا غفلت برتنے کے ثبوت نہیں ملے اور ثبوت کے بغیر کسی کو ملزم نہیں ٹھہرایا نہیں جا سکتا۔عدالت نے اپنے فیصلے میں متاثرین کو کمپنی کی جانب سے دیت اور معاوضہ دینے کے حوالے سے درخواست بھی مسترد کرتے ہوئے کہا مزید لکھا کہ افسوسناک واقعے میں شہید ہونے والوں کی دیت اور زخمی ہونے والوں کے معاوضے ادا کرنے سے متعلق مطالبہ پبلک پراسیکیوٹر کا استحقاق حاصل نہیں۔ یہ کمپنی اور متاثرین کے درمیان نجی معاملہ ہے اس لیے پبلک پراسیکیوٹر یہ مطالبہ پیش کرنے کا مجاز نہیں۔عدالت نے پراسیکیوٹر کے موقف کو رد کرتے ہوئے فیصلے میں لکھا کہ محکمہ موسمیات کا دعویٰ کہ حادثے کے دن 32 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والی ہوا سے کرین کے گرنے کا خطرہ ہے درست نہیں کیوں کہ کرین آپریشن گائیڈ میں واضح درج ہے کہ 70 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والی ہواؤں کا کرین پر کوئی اثر نہیں ہوگا۔عدالت نے لکھا کہ بلیک بکس سے حاصل ہونیوالی رپورٹ سے بھی بن لادن گروپ کے موقف کی تائید ہوئی ہے اور وزارت خزانہ کی بن لادن کو امن و سلامتی کے تقاضوں کے تحت کرین ہٹانے کی درخواست پر کان نہ دھرنے پر بھی عدالت نے بن لادن کو کلین چٹ دیتے ہوئے کہا کہ اس قسم کا انتباہ جاری کرنا وزارت خزانہ کا دائرہ کار نہیں۔عدالت نے فیصلہ دیا کہ فریقین کے دلائل اور شواہد کی روشنی میں ملزمان کو کرین حادثے کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا

چنانچہ قانون یہ ہے کہ جب تک کسی پر کوئی الزام ثابت نہ ہو اس وقت تک وہ بے قصور ہی مانا جاتا ہے۔افسوسناک واقعے کی سماعت کے دوران بن لادن گروپ کے ملازمین کو 2  اکتوبر 2017 میں ہی بری کردیا گیا تھا جس پر پبلک پراسیکیوشن نے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر دی تھی۔ نئے فیصلے کے خلاف بھی 30 روز کے اندر اپیل دائر کی جا سکتی ہے۔ اگر اعتراض دائر نہ کیا گیا تو یہی فیصلہ نافذ ہوجائے گا۔واضح رہے کہ 24 اگست 2015 کو حرم کی توسیع کے لیے جاری تعمیراتی کام کے دوران بن لادن گروپ کی 1 ہزار 350 ٹن وزنی کرین حاجیوں پر گر گئی تھی جس میں دب کر 110افراد شہید اور 209 زخمی ہوگئے تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…