پیر‬‮ ، 30 مارچ‬‮ 2026 

نئی دہلی کے ساتھ پیچیدہ تعلقات نے اسلام آباد کوکس کے ساتھ دوستانہ حکومت کی خواہش پر مجبور کر دیا ؟ حیرت انگیز دعویٰ کر دیا گیا

datetime 5  ستمبر‬‮  2019 |

واشنگٹن( آن لائن )امریکا کے سابق سیکریٹری دفاع جیمز میٹس نے کہا ہے کہ پاکستان اور امریکا کے مشترکہ مفادات یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ دونوں ممالک معمولی توقعات کے ساتھ محتاط انداز میں تعلقات برقرار رکھیں۔اپنی سوانح حیات کال سائن چاس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے سیکریٹری دفاع نے لکھا کہ نئی دہلی کے ساتھ پیچیدہ تعلقات نے اسلام آباد کو کابل میں دوستانہ حکومت کی خواہش پر

مجبور کیا۔جمیز میٹس کا تعلق امریکا کی مرین کارپس سے ہے جنہیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انتخابات میں کامیابی کے بعد اپنی کابینہ میں بطور سیکرٹری دفاع شامل کیا تھا، تاہم انہوں نے جنوری 2019 میں افغانستان کے معاملات پر امریکی صدر سے اختلافات پیدا ہونے پر اپنے عہدے سے استعفی دے دیا تھا۔افغانستان میں امریکی فوج اور امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کی سربراہی کرنے والے جیمز میٹس افغانستان سے امریکی فوج کے فوری انخلا کے مخالف رہے ہیں۔اپنی سوانح حیات میں امریکا اور پاکستان کے تعلقات پر روشنی ڈالتے ہوئے جیمز میٹس کا کہنا تھا کہ بلآخر یہ ہمارا مشترکہ مفاد ہے کہ ہم تعاون کی معمولی توقعات کے ساتھ اپنے محتاط تعلقات برقرار رکھیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ہم پاکستان کے ساتھ اپنے مسائل کو حل کر سکتے ہیں لیکن انہیں حل کرنے کے لیے ہمارا اختلاف بہت گہرا اور بھروسہ بہت کم ہے، اور یہی آج کل ہمارے تعلقات کی حالت ہے۔اپنی کتاب کی رونمائی کے دوران انہوں نے امریکی کونسل برائے خارجہ امور کے بحث و مباحثے میں بھی حصہ لیا جہاں ان سے سوال کیا گیا کہ آپ نے اپنی کتاب میں پاکستان کو سب سے خطرناک ملک کیوں لکھا؟انہوں نے جواب میں پاکستان میں بنیاد پرستی کو ہی پاکستان کے سب سے خطر ناک ملک ہونے کی وجہ قرار دیا۔امریکی جنرل نے کہا کہ پاکستان میں بنیاد پرستی ہے، اور ویسے بھی ان کی فوج کے کچھ ممبران کا بھی یہی نظریہ ہے، انہیں یہ احساس ہے کہ وہاں کیا ہورہا ہے اور وہ اس کا اعتراف بھی کرتے ہیں۔اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے جیمز میٹس نے کہا کہ جب آپ بنیاد پرستی کو لیتے ہیں اور اس میں دنیا کی سب سے تیزی سے ایٹمی ہتھیار بنانے والی صلاحیت کو شامل کرتے ہیں تو میرا خیال ہے کہ ہم یہ دیکھیں گے کہ آخر کیوں ہم ہتھیاروں کے کنڑول اور جوہدری ہتھیاروں کے عدم پھیلا کی بات کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ایران کے لیے واحد آپشن


بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…